نیٹو اجلاس :ٹرمپ کایوٹرن،اتحادی ممالک کیساتھ گرمجوشی
اجلاس میں اتحاد اور تعاون کا ماحول تھا، امریکا نیٹو کیساتھ رہنا چاہتا ہے :ٹرمپ نیٹو اتحادیوں کا گرین لینڈ سے متعلق موقف امریکا کیلئے بڑا مسئلہ:امریکی صدر
انقرہ(اے ایف پی) امریکی صدر ٹرمپ کا یوٹرن، نیٹو سربراہ اجلاس کے اختتام پر اتحادی ممالک کے ساتھ گرمجوشی کا اظہار کرتے ہوئے فوجی اتحاد میں امریکا کی شمولیت برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرا دی۔ ٹرمپ نے اجلاس کے بعد کہا کہ ملاقات میں اتحاد اور باہمی اعتماد کا ماحول تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن نیٹو کے ساتھ رہنا چاہتا ہے ۔ اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں رکن ممالک نے نیٹو کے دفاعی معاہدے کے آرٹیکل 5 کے تحت باہمی مدد کے عزم کا اعادہ کیااور کہا کہ ایک رکن ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ اجلاس سے قبل ٹرمپ نے ایران پالیسی میں حمایت نہ کرنے پر بعض اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اورسپین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی تھی ۔انہوں نے سپین کو نیٹو کا خراب شراکت دار قرار دیا تھا۔ سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی روابط ختم کرنے کی دھمکیوں کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات مثبت ہیں۔انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ امریکا اور سپین کے درمیان سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں تعلقات مضبوط اور مثبت نوعیت کے ہیں۔علاوہ ازیں ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کا گرین لینڈ سے متعلق موقف امریکا کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے ۔
انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ علاقہ صرف امریکا نہیں بلکہ دنیا کے تحفظ کیلئے ضروری ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کیلئے زیادہ فائدہ مند نہیں لیکن امریکا کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ یورپی یونین نے ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جزیرے کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کے پاس ہے ۔ یورپی یونین کے ترجمان اولوف گل نے کہا کہ علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور سرحدوں کا احترام بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ہیں۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ گرین لینڈ فروخت کیلئے نہیں اور تمام ممالک کو اس کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے ۔ آئس لینڈ کی وزیراعظم نے بھی کہا کہ گرین لینڈ کے عوام امریکا کا حصہ بننا نہیں چاہتے ۔