آخری دم تک اپنے مورچے میں ڈٹا رہنے والا وارث میر

9 جولائی 1987ء پاکستان کی صحافتی اور جمہوری تاریخ کا ایک ایسا المناک دن ہے جب معروف دانشور‘ صحافی اور ترقی پسند مفکر پروفیسر وارث میر پُراسرار حالات میں صرف 48 برس کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔ آمریت کے خلاف بیباکی سے جمہوریت کی جنگ لڑنے والے وارث میر کی بے وقت موت نے پاکستان میں آزادیٔ اظہار اور روشن خیالی کے ایک مضبوط علمبردار کو خاموش کر دیا۔ اگرچہ ان کے انتقال کو کئی دہائیاں گزر چکیں لیکن آج بھی ان کی تحریریں پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ آج کے پاکستان ہی کے حالات پر قلم اٹھا رہے ہوں۔
پروفیسر وارث میر پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ ابلاغیات کے ممتاز استاد تھے۔ وہ ایسے دور میں لکھ رہے تھے جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت اپنے عروج پر تھی۔ آئین معطل تھا‘ سیاسی جماعتوں پر پابندیاں تھیں‘ اخبارات سخت سنسرشپ کا شکار تھے‘ صحافیوں کو کوڑے مارے جا رہے تھے‘ اختلافِ رائے کو غداری سمجھا جاتا تھا اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ پوری قوم پر مسلط کیا جا رہا تھا۔ ایسے ماحول میں سچ لکھنا صرف ایک صحافتی عمل نہیں بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اترنے کے مترادف تھا۔ پروفیسر وارث میر ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خوف کے اس ماحول میں خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایک حقیقی دانشور اپنے عہد کے مسائل سے نظریں نہیں چرا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک لکھنے والا صرف اپنے زمانے کے لیے نہیں لکھتا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تاریخ مرتب کرتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے تھے کہ جب صحافی کو سچ لکھنے کی اجازت ہی نہ ہو تو تاریخ کی درست تصویر آخر کیسے محفوظ رہے گی؟
1977ء میں بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل لاء نافذ کرنے والے جنرل ضیاء الحق کے دور میں سرکاری پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پاکستان کے قیام کا اصل مقصد ایک مخصوص مذہبی ریاست کا قیام تھا۔ سرکار کے درباری دانشور یہ تاثر دینے میں مصروف تھے کہ ضیا جنتا کی تمام پالیسیاں اسلام کے عین مطابق ہیں۔ لیکن وارث میر نے کلمہ حق بلند کرتے ہوئے اس سرکاری بیانیے کو علمی دلائل‘ تاریخی شواہد اور اسلامی تعلیمات کے حوالے دے کر چیلنج کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عوام دشمن اور امتیازی قوانین کو شریعت بل کے نام پر اسلامی قرار دینا تاریخ کو مسخ کرنے کے علاوہ خود اسلامی تعلیمات کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ ان کے نزدیک اسلام انصاف‘ مساوات‘ انسانی وقار اور آزادی کا دین ہے‘ نہ کہ جبر‘ آمریت اور پابندیوں کا۔
پروفیسر وارث میر کی سب سے نمایاں خدمات میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ان کا تاریخی سلسلہ مضامین ''کیا عورت آدھی ہے؟‘‘ شامل ہے‘ جو ان کے وفات کے بعد کتابی صورت میں شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے شریعت بل کے ان قوانین کا مدلل تجزیہ کیا جن کے ذریعے عورت کو مرد کے مقابلے میں کمتر اور آدھا انسان قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی‘ خصوصاً قانون شہادت کے قانون کو انہوں نے اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جنرل ایوب خان کے دور کے خاندانی قوانین کئی حوالوں سے اسلامی روح سے زیادہ قریب تھے‘ بہ نسبت اس سخت گیر شرعی قوانین کے جنہیں کہ ضیاء الحق کی بغل بچہ ایک اسلامی جماعت کی حمایت سے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔
وارث میر عورت کے سماجی‘ تعلیمی اور معاشی حقوق کے بھی مضبوط حامی تھے۔ انہوں نے تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ خواتین کے حق میں کھل کر لکھا اور اس سوچ کی مخالفت کی جو عورت کو صرف چار دیواری تک محدود کرنا چاہتی تھی۔ ان کی دلائل پر مبنی تحریروں نے ضیا دور میں مذہب کے ٹھیکے دار بن جانے والے رجعت پسند حلقوں کو سخت نالاں کر دیا، چنانچہ انہیں ردعمل میں سخت نتائج بھی بھگتنا پڑے مگر وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔خواتین کے حقوق کے علاوہ انہوں نے آزادیٔ صحافت‘ سیکولر فکر‘ لبرل ازم‘ جمہوریت‘ آمریت‘ بنیادی انسانی حقوق‘ آئینی بالادستی‘ غیر جماعتی انتخابات‘ ریفرنڈم‘ آئینی ترامیم اور سیاسی آزادیوں جیسے حساس موضوعات پر بھی بے خوف ہو کر قلم اٹھایا۔ ان کی ہر تحریر تحقیق اور منطقی استدلال کا حسین امتزاج ہوتی تھی۔ ان کا مقصد محض تنقید کرنا نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے میں عقلی اور علمی مکالمے کی روایت کو فروغ دینا تھا۔
1985ء سے جولائی 1987ء میں اپنی اچانک وفات تک‘ وارث میر مسلسل زور دیتے رہے کہ ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد انسانی حقوق‘ شہری آزادیوں‘ قانون کی حکمرانی اور آزاد فکر پر استوار ہوتی ہے۔ وہ مسلمانوں کو جدید سائنسی علوم کے حصول‘ تنقیدی سوچ اپنانے اور جذباتیت کے بجائے عقل وتحقیق کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں بار بار یہی پیغام ملتا ہے کہ قوم صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم‘ تحقیق اور آزاد فکر سے ترقی کرتی ہے۔ ضیا آمریت اور اس کے حامی دائیں بازو کے حلقے وارث میر کی ان تحریروں پر سیخ پا ہوئے تو انہیں پنجاب یونیورسٹی میں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جانے لگا۔ انہیں شعبہ صحافت کی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں ذہنی دباؤ میں لانے کے لیے ان کے سولہ سالہ بیٹے کے خلاف قتل کا جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا گیا‘ جو بعد میں بے بنیاد ثابت ہوا، مگر تب تک وارث میر اگلے جہاں رخصت ہو چکے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے مخالفین انہیں مار تو سکتے ہیں لیکن جھکا نہیں سکتے۔ پروفیسر وارث میر اپنی ایک تحریر میں یونانی اساطیر کے کردار پرومیتھیئس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ''گدھ تبھی کسی کا دل نوچیں گے جب اس کے پاس دل ہوگا‘‘۔ یہ الفاظ گویا ان کی اپنی زندگی کی تصویر بن گئے۔ انہوں نے اپنے ضمیر‘ اپنے قلم اور نظریات کا سودا کرنے سے انکار کیا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔
9 جولائی 1987ء کو ان کا پُراسرار حالات میں اچانک انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے اسباب پر مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں‘ تاہم یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ وہ آخری دم تک آمریت‘ فکری جمود‘ انتہا پسندی اور ناانصافی کے خلاف علمی محاذ پر سرگرم رہے۔ اسی لیے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پروفیسر وارث میر آمریت کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اپنے مورچے میں ہی شہید ہو گئے لیکن جمہوریت دشمنوں کے خلاف ہتھیار ڈالنے سے انکاری رہے۔
پروفیسر وارث میر صرف ایک استاد یا صحافی نہیں تھے بلکہ ایک مکمل عہد تھے۔ وہ اپنے نظریات کی عملی تصویر تھے۔ انہوں نے جمہوریت‘ آئین‘ انسانی آزادی‘ خواتین کے حقوق‘ صحافتی آزادی اور روشن خیال معاشرے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ ان کا قلم کبھی آمریت کے سامنے نہیں جھکا اور نہ ہی وہ کسی مصلحت کا شکار ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے دانشور کم پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر‘ اپنی فکر اور اپنے نظریات کی خاطر ہر قسم کی قربانی دی ہو۔ وارث میر انہی نایاب شخصیات میں شامل ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچ بولنے اور حق لکھنے کی قیمت ضرور ادا کرنا پڑتی ہے مگر ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں ہوتے بلکہ تاریخ انہیں ہمیشہ عزت اور احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں