غزہ بحالی منصوبوں کی تیاری، سکیورٹی و فنڈزکمی بڑے چیلنجز

غزہ بحالی منصوبوں کی تیاری، سکیورٹی و فنڈزکمی بڑے چیلنجز

دسیوں ارب ڈالر درکار ، تعمیراتی سامان ، ملبہ ہٹانے والی مشینری کی شدید قلت انسانی صورتحال اب بھی انتہائی سنگین، تعمیرنو میں کئی سال لگ سکتے :اقوام متحدہ مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا، اس کے باوجود آگے بڑھ رہے :امن بورڈ

یروشلم(اے ایف پی)غزہ میں جنگ بندی کے باوجود دوبارہ لڑائی کے خدشات کے درمیان جنگ کے بعد کے مرحلے کیلئے حکمرانی، سکیورٹی اور انسانی امداد کے منصوبے تیار  کیے جا رہے ہیں، تاہم سیاسی اتفاق رائے ، سکیورٹی ضمانتوں اور مالی وسائل کی کمی کے باعث عملی پیش رفت محدود ہے ۔ غزہ کی تعمیر نو اور انتظامی معاملات کیلئے مقامی اور عالمی فریقوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے ۔20لاکھ فلسطینیوں کی بحالی اور تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے ۔اسرائیل کا اصرار ہے کہ کسی بھی پیش رفت سے قبل حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا، تاہم ٹرمپ کی قائم کردہ  بورڈ آف پیس  کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ زمینی منصوبوں پر پیش رفت کیلئے اب حماس کی غیر مسلح ہونے کو پیشگی شرط کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔تمام منصوبہ بندی بدترین صورتحال کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہ ہمیں مذاکرات میں کچھ حاصل نہیں ہو رہا، لیکن ہم اس کے باوجود آگے بڑھ رہے ہیں۔عہدیدار کے مطابق مراکش، کوسووو، البانیہ اور قازقستان سمیت چار ممالک اس منصوبے میں حقیقی طور پر شامل ہیں۔

کریم شالوم گزرگاہ کے قریب ایک لاجسٹک اڈہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے ، جہاں غزہ میں تعیناتی سے قبل ابتدائی مرحلے میں 500 فوجیوں کو رکھا جا سکے گا۔فلسطینی پولیس فورس کی تیاری بھی جاری ہے اور اب تک 20 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ایک سفارتی ذریعے کے مطابق تربیت کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا ، اسرائیل نے جانچ پڑتال کے بعد بھرتی کیے جانے والے افراد کی موجودہ فہرست مسترد کر دی ہے ۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ مجوزہ 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس غزہ کے لیے بہت بڑی ہوگی۔اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو میں کئی سال لگ سکتے ہیں ، دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے ، تعمیراتی سامان اور ملبہ ہٹانے والی مشینری کی شدید قلت ہے ۔غزہ میں انسانی ضروریات اب بھی انتہائی سنگین ہیں۔

بورڈ آف پیس  کے مطابق امداد دینے والے ممالک کی جانب سے بڑے وعدوں کے باوجود متوقع مالی امداد کا بڑا حصہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔بورڈ کے عہدیدار نے کہا اگر کئی انسانی امدادی زون قائم کرنا پڑے تو ظاہر ہے ہمیں مزید فنڈز درکار ہوں گے ۔انہوں نے بتایا کہ بورڈ رفح میں ایک ابتدائی انسانی امدادی زون قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ، جہاں جانچ پڑتال کے بعد دسیوں ہزار فلسطینیوں کو جگہ دی جا سکے گی۔فلسطینی اتھارٹی کے مستقبل کے کردار پر بھی اب تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ حماس نے غزہ کے انتظامی امور نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے سپرد کرنے کا عندیہ دیا ہے ، تاہم اسرائیل نے اب تک کمیٹی کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ مبصرین کے مطابق واضح سیاسی معاہدے کے بغیر غزہ میں پائیدار امن، موثر حکمرانی اور تعمیرِ نو کا عمل بدستور غیر یقینی رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں