امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں چل بسے
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم مختصر علالت کے بعد 71 برس کی عمر میں چل بسے ۔
وہ امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیل کی حمایت اور ایران و یوکرین سے متعلق اپنے سخت مؤقف کے لیے جانے جاتے تھے ۔امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم کے دفتر نے بتایا کہ وہ ایک مختصر اور اچانک بیماری کے باعث چل بسے ۔گراہم امریکی سیاست کی ایک بااثر شخصیت تھے اور حالیہ برسوں میں صدر ٹرمپ کے اہم اتحادیوں میں شمار ہوتے تھے ۔ وہ خارجہ پالیسی کے امور پر سرگرم کردار ادا کرتے رہے ۔صدر ٹرمپ نے ان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ لنڈسی گراہم ان عظیم ترین افراد اور سینیٹروں میں سے ایک تھے جنہیں وہ جانتے تھے ۔ ٹرمپ نے انہیں سچا امریکی محب وطن قرار دیا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گراہم کو اسرائیل کا عظیم دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی امریکا اور اسرائیل کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔لنزے گراہم نے پاکستان سمیت دیگر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے مطالبے پر ابراہم اکارڈ میں شامل ہو جائیں۔سینیٹر لنزے گراہم نے رواں برس مئی میں ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی پر
سوالات اٹھاتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے کا جواب دے ۔ دریں اثنا لنزے گراہم کی انتقال سے چندگھنٹے قبل امریکی صدر سے گفتگو سامنے آگئی،امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ہفتے کی رات گراہم نے صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی اور انہیں اپنے حالیہ یوکرین کے دورے اور روس پر پابندیوں سے متعلق اس بل کے بارے میں آگاہ کیا، جسے وہ جلد سینیٹ میں پیش کرنا چاہتے تھے ،اس گفتگو کے کچھ دیر بعدگراہم سے بات کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ سینیٹر لنزے گراہم نے کہا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ جب انہیں فوراً ہسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا تو انہوں نے جواب دیا میں ابھی نہیں مرسکتا، مجھے ابھی روس پر پابندیوں والا بل منظور کرانا ہے ، ایران کا معاملہ حل کرنا ہے اور سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی بھی کرانی ہے ۔ایگزیوس کے مطابق اس گفتگو کے چند گھنٹے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ٹرمپ نے کہا تھکا ہوا ہونے کے علاوہ وہ بالکل ٹھیک تھے ۔ میرے خیال میں گراہم کی موت بہت اچانک ہوئی اور شاید دنیا سے جانے کا یہ کوئی بہت برا طریقہ نہیں تھا۔