افغان سرزمین سے دہشتگردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چلینج:اسحاق ڈار
کالعدم ٹی ٹی پی ،بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ،رواں سال 2 ہزار سے زائد حملے ،560 پاکستانی شہید ہوئے ایران، امریکا امن موقع ضائع نہ کریں ، خطاب ،کرغز صدر ، چینی ، عراقی ہم منصب سے ملاقات ، علاقائی کشیدگی پر تشویش
بشکیک (دنیا نیوز، اے پی پی)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے ، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغانستان سے سرگرم ہیں جبکہ رواں سال دو ہزار سے زائد دہشت گرد حملوں میں 560 پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے ، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں اور ان میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر شدید تشویش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، اس لیے ایس سی او کو طالبان پر انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور مشترکہ ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے جبکہ ‘‘شنگھائی اسپرٹ’’ باہمی اعتماد، تعاون اور تعمیری سفارت کاری کی بنیاد ہے ۔
اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تنازع کے مستقل اور پرامن حل کے لیے کردار ادا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور مفاہمتی یادداشت کو اہم سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس عمل کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے اور امن عمل کو سبوتاژ کرنے والے عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔
بعد ازاں اسحاق ڈار نے ایس سی او وزرائے خارجہ کے ہمراہ کرغزستان کے صدر سے ملاقات کی، جس میں علاقائی و عالمی صورتحال اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم کی نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔دریں اثنا نائب وزیراعظم نے چین کے وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات میں پاک چین تعلقات، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی فورمز میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کے فروغ، حالیہ علاقائی کشیدگی پر تشویش اور امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں، تحمل اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments