غزہ جنگ بندی،جیرڈ کشنر کی حماس قیادت سے اہم ملاقات
حماس کا اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کرنے کا مطالبہ ٹرمپ کے داماد و خصوصی ایلچی مصری صدرسے بھی ملے ،اسرائیل روانہ
قاہرہ (اے ایف پی)حماس کے رہنماؤں نے اتوار کو مصر میں امریکی صدر ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں حماس نے غزہ سے متعلق معاہدے پر اپنے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ کشنر نے تنظیم کے ہتھیار ڈالنے اور غزہ کی آئندہ حکمرانی میں حماس کے کسی بھی کردار کے خاتمے پر زور دیا۔اسرائیل پہلے ہی اس منصوبے کو مسترد کرچکا ہے ۔حماس نے امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس اور ثالث ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کے لیے امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ حماس نے یہ مطالبہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر سے مصر میں ملاقات کے بعد کیا۔ حماس نے بیان میں کہا کہ بورڈ اور ثالث ممالک اسرائیل پر زور دیں کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرے ، خلاف ورزیاں اور ہلاکتیں بند کرے اور غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے روڈ میپ کی منظوری دے ۔ ادھر جیرڈ کشنر نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں غزہ جنگ بندی پر عملدرآمد پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔
مصری صدر کے ترجمان محمد الشناوی کے مطابق بحیرہ روم کے ساحلی شہر العلمین میں ہونے والی ملاقات میں غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت تمام فریقین کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں جیرڈ کشنر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے یروشلم روانہ ہو گئے ۔ حماس کے وفد نے مصری انٹیلی جنس چیف حسن رشاد سے ملاقات میں غزہ جنگ کے بعد کے منصوبے پر عملدرآمد آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ادھر اسرائیل نے اتوار کو غزہ میں فضائی حملے جاری رکھے ، جن میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے ، خان یونس میں ایک زخمی بعدازاں دم توڑ گیا۔ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے بدر یونٹ کے ایک سینئر کمانڈر ابو حسن علا کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔عرب لیگ نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تنازع مزید علاقوں تک پھیل سکتا ہے ۔اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر اسے حزب اللہ کی جانب سے خطرہ محسوس ہوا تو وہ اس گروپ پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments