اینڈی برنہم کا ٹرمپ کی جعلی چیف آف سٹاف سے پیغامات کا تبادلہ
وائلز کا روپ دھارنے والے سے رابطہ پیغامات کی صورت میں تھا، گفتگو نہیں ہوئی کسی اہم پیغام کا تبادلہ نہیں ہوا،، مشکوک ہونے پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کر دیا گیا
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایک ایسے شخص سے پیغامات کا تبادلہ کیا جو خود کو امریکی صدر ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز ظاہر کر رہا تھا۔ خبر کے مطابق برنہم اور مذکورہ شخص کے درمیان صرف چند پیغامات کا تبادلہ ہوا اور کوئی اہم معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔حکام کو جب رابطہ مشکوک محسوس ہوا تو پیغامات فوری طور پر متعلقہ اداروں کو رپورٹ کردئیے گئے ۔ ڈاؤننگ سٹریٹ نے سکیورٹی واقعے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کرتی۔رپورٹ کے مطابق برنہم اور وائلز کا روپ دھارنے والے شخص کے درمیان فون پر گفتگو نہیں ہوئی۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال امریکی حکام نے وائلز کے ذاتی فون ہیک ہونے کی تحقیقات کی تھیں۔ ہیکرز نے ان کی رابطہ فہرست استعمال کرتے ہوئے امریکی سینیٹرز، گورنرز اور کاروباری شخصیات کو بھی پیغامات بھیجے تھے ۔اس سے قبل سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون بھی ایک جعل ساز کے نشانے پر آچکے ہیں، جس نے خود کو یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو ظاہر کیا تھا۔ کیمرون نے اس شخص سے ٹیکسٹ پیغامات کا تبادلہ بھی کیا تھا۔2022 میں برطانوی حکومت کے مزید دو وزرا کو بھی ایک شخص نے نشانہ بنایا تھا جو خود کو یوکرین کے اس وقت کے وزیراعظم ڈینس شمیہال ظاہر کر رہا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments