اسرائیل کی فلسطینی اتھارٹی کو مکمل جنگ کی دھمکی
اعلیٰ قیادت، سکیورٹی ڈھانچے اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائیگا:اسرائیلی وزیر لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 12افراد شہید غزہ میں ملبہ ہٹانے سے جنگی جرائم کے شواہد مٹنے کا خدشہ:اقوام متحدہ
یروشلم، غزہ، جنیوا (اے ایف پی) اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دھمکی دی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز یا متعلقہ اداروں نے 7 اکتوبر 2023 جیسے حملے کی منصوبہ بندی کی تو اسرائیل مکمل جنگ شروع کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی فلسطینی اتھارٹی کی اعلیٰ قیادت، سکیورٹی ڈھانچے اور مغربی کنارے کے انفراسٹرکچر کے خلاف ہوگی، جس میں اہم شخصیات کو نشانہ بنانے ، شہریوں کے انخلا اور مستقل اسرائیلی فوجی موجودگی جیسے اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔ادھر اسرائیلی فوج نے شمال مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی آبادکار پر چاقو سے حملہ کرنے والے فلسطینی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔
امریکا کی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے اعلیٰ عہدیدار نکولے ملاڈینوف نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی صورتحال میں پیش رفت نہ ہونے اور مغربی کنارے میں بڑھتے تشدد کے باعث دو ریاستی حل عملی طور پر ناممکن ہوسکتا ہے ۔ ابوظہبی میں ہیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ کا 50 فیصد سے زائد علاقہ اسرائیلی فوج جبکہ نصف سے کم حماس کے کنٹرول میں ہے ، جس کے باعث سیاسی حل کی قابل اعتماد راہ موجود نہیں۔ انہوں نے عبوری انتظام، ہتھیاروں سے دستبرداری اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کو ضروری قرار دیا۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی کنٹرول والے غزہ کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر ملبہ ہٹانے سے مبینہ جنگی جرائم کے شواہد ضائع ہونے اور انسانی باقیات کی شناخت میں رکاوٹ کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا ملبہ محض تعمیراتی فضلہ نہیں بلکہ مبینہ جرائم کا جائے وقوعہ اور قبرستان ہے ۔لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد شہید ہوگئے ۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق کفر رمان میں ایک حملے میں 11 افراد مارے گئے ، جن میں دو بچے اور چار خواتین شامل ہیں، جبکہ دوسرے حملے میں ایک امدادی کارکن بھی شہید اور ایک زخمی ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments