اے آئی خدشات، امریکی و ایشیائی ٹیکنالوجی حصص میں مندی

اے آئی خدشات، امریکی و ایشیائی ٹیکنالوجی حصص میں مندی

چین میں اے آئی انسانی کنٹرول سے باہر ہونے کے خطرے پر حفاظتی اقدامات تیز

نیو یارک،بیجنگ،سنگاپور (نیوز ایجنسیاں) مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی اپیل و دیگر خدشات کے بعد ایشیا میں اے آئی سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں شدید مندی دیکھی گئی۔جاپان میں اوپن اے آئی کی سرمایہ کار کمپنی سافٹ بینک کے حصص 13 فیصد تک گر گئے، جبکہ کیاوکسیا، ٹوکیو الیکٹرون اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص بھی دباؤ میں رہے ۔ جنوبی کوریا میں ایس کے ہائینکس اور سام سنگ کے حصص بھی نمایاں گرے ۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار محدود کرنے سے متعلق ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں کے بیانات کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں پیر کو مندی رہی۔ اے آئی کمپنیوں کے حصص، خصوصاً این ویڈیا،اے ایم ڈی اور کور ویومیں کمی نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔

اتوار کو اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں بڑھانے کی رفتار کم کرنے پر زور دیا، جس کی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ٹیسلا کے ایلون مسک نے بھی حمایت کی تھی ۔ چین نے مصنوعی ذہانت کے انسانی کنٹرول سے باہر ہونے کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات تیز کردیئے ہیں۔ چینی حکام اور ماہرین ایسے نظاموں کے ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں جو مستقبل میں خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ نے اے آئی پر انسانی کنٹرول کو پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات کے خدشات مسترد کرتے ہوئے انہیں محض افواہ قرار دے دیا۔ ٹرمپ نے تیزی سے ترقی کرتی اے آئی ٹیکنالوجی پر عالمی سطح پر حفاظتی پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات بھی رد کردئیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دوڑ ہارنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چین کے وزیرِ ریاستی سلامتی چن یی شن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور بیرونی طاقتیں اسے سماجی انتشار پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ دشمن عناصر جنریٹو اے آئی کے ذریعے سیاسی افواہیں اور گمراہ کن معلومات پھیلا کر چین کے خلاف رائے عامہ اور ذہنی جنگ چلا رہے ہیں۔ چین کے سرکاری حمایت یافتہ اخبار گلوبل ٹائمز نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی اپیل کو چین کے خلاف سرد جنگ کی حکمت عملی قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی ایسے غیر معمولی خطرات پیدا کر رہی ہے جن سے انسانی مستقبل متاثر ہوسکتا ہے ۔ وولکر ترک نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا ایک ایسی ناقابلِ واپسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے جس کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والی نسلیں بھی متاثر ہوں گی۔ امریکی کانگریس تعطیلات کے بعد دوبارہ کام شروع کرتے ہی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات کے معاملے پر متحرک ہوگئی۔ امریکی ایوان نمائندگان کے پاس 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل قانون سازی کے لیے صرف 4 دن باقی رہ گئے ہیں، تاہم ارکان اے آئی سے متعلق حکمت عملی پر جماعتی اور داخلی اختلافات کا شکار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...