حوثیوں کا سعودی عرب پر نیا حملہ، یمنی فورسز کا کئی علاقوں کا قبضہ واپس لینے کا دعویٰ

حوثیوں کا سعودی عرب پر  نیا حملہ، یمنی فورسز کا کئی علاقوں کا قبضہ واپس لینے کا دعویٰ

صنعا،ریاض،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر نیا حملہ کردیا جبکہ یمن کی حکومتی فورسز نے تعز کے محاذ کے قریب کئی علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے حامی حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چند روز کے دوران یمن پر سینکڑوں فضائی حملوں کے جواب میں جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں فوجی فضائی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے ، طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط اور جنوبی علاقے کے تین دیگر شہروں نجران، جازان اور ابہا میں کئی ہنگامی انتباہ جاری کیے ، جہاں ماضی میں بھی حوثیوں کے حملے ہو چکے ہیں۔یمن میں حوثی مخالف میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے تعز کے محاذ کے قریب کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ،یمنی فورسز نے حوثیوں کے اجتماعات پر فضائی حملے کیے ، جن سے متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں، درمیانے درجے کے اسلحے کا گولہ بارود ذخیرہ پھٹ گیا اور 10 مسلح افراد ہلاک ہوگئے، فورسز کی کارروائیوں کو سعودی جنگی طیاروں کی فضائی مدد بھی حاصل رہی۔

صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے تعز میں حوثی مخالف فورسز کی جنگی تیاری اور درست کارروائیوں کو سراہتے کہا کہ مأرب، الجوف، البیضا اور الضالع کے علاقوں میں بھی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یمن کے مختلف محاذوں پر حوثی ٹھکانوں کیخلاف مزید فضائی حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں میں باب المندب کے قریب مغربی یمن کے ساحلی شہر ذباب کے علاقے میں حوثی پوزیشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ سعودی عرب نے شمالی یمن میں انکے مرکزی گڑھ صوبہ صعدہ پر حملے کیے ہیں۔حوثیوں کے فوجی ترجمان یحیی سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا سعودی عرب نے 24 گھنٹے کے دوران تعز، لحج، الجوف، حجہ، البیضاء اور صعدہ صوبوں پر 58 فضائی حملے کیے جن میں خمیس مشیط کے فضائی اڈے سے اڑنے والے ایف 15 طیارے استعمال کیے گئے۔

پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور عالمی معیار برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ امریکا میں سیاسی طور پر حساس اوسط خوردہ ڈیزل قیمت بھی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور 6.23 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر سعودی پائپ لائن چند روز سے زیادہ بند رہتی ہے تو عالمی تیل کی سپلائی میں 4 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے ۔ خلا ئی تصاویر میں پائپ لائن کے ان حصوں کو دکھایا گیا ہے جو آگ لگنے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاض نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ پائپ لائن کتنے عرصے تک بند رہے گی۔ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایم کیو ون ڈرون کو مار گرایا ہے ۔عمانی ساحل کے قریب تجارتی جہاز ایم ٹی ایل گائیا پر حملہ کیا گیا، جہاز پر عملے کے 14 انڈین ارکان سوار تھے ، جن میں سے 13 کو بچا لیا گیا ہے ، جبکہ ایک انڈین لاپتا ہے۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکی تعاون سے خفیہ طور پر آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں کی اوسط تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ تاہم آزاد نگرانی کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اگست میں لڑائی میں عارضی کمی کے بعد دوبارہ شدت آنے کے باعث رواں ماہ تیل کی ترسیل میں کمی ہوئی ہو سکتی ہے ۔سعودی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے پیر کو جدہ میں امریکی علاقائی افواج کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی۔امریکی صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا وینزویلا کی طرح ایران میں موجود رہ سکتا ہے اور تیل قبضے میں رکھ سکتا ہے ۔ٹرمپ کے مطابق بالآخر ہم ایران سے نکل جائینگے جب تک ہم وہاں رہنے اور وینزویلا کی طرح تیل اپنے قبضے میں رکھنے کا فیصلہ نہ کر لیں، وینزویلا سے حاصل آمدنی نے جنگ کے کئی گنا اخراجات پورے کر دئیے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...