مصنوعی ذہانت:دنیا کو فائدے کی امید، بے قابو ہونیکا خوف
اے آئی سہولت بھی اور خطرہ بھی ہے ،کئی ممالک کے شہریوں کا اظہار تشویش اے آئی پیشہ ورانہ زندگی میں مفید، مگر ذاتی طور پر خوفناک ہے :اطالوی معمار تیزی سے ترقی کرتی اے آئی انسانوں کی سوچنے کی صلاحیت متاثر کرسکتی :طالبہ اے آئی آزاد عفریت،شایداے آئی کو انسان کی ضرورت نہ رہے :امریکی انجینئر
ہانگ کانگ (اے ایف پی )تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن خطرات نے دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنے اور موثر قوانین بنانے کی بحث تیز کردی ۔ اے ایف پی نے مختلف ممالک کے شہریوں سے بات کی تو کسی نے اے آئی کو انسانوں کے لیے بڑی سہولت قرار دیا جبکہ کئی افراد نے ملازمتوں، انسانی سوچ اور مستقبل میں اسکے بے قابو ہونے پر تشویش ظاہر کی۔اٹلی میں ایک معمار نے کہا کہ اے آئی پیشہ ورانہ زندگی میں نئے خیالات دیتی ہے ، لیکن نجی طور پر وہ اس ٹیکنالوجی سے خوفزدہ بھی ہیں۔ امریکا میں ایک تجزیہ کار نے اسے ‘‘آزاد کردیا گیا عفریت’’ قرار دیا جبکہ سافٹ ویئر انجینئر نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں شاید اے آئی کو ہدایات دینے کے لیے بھی انسانوں کی ضرورت نہ رہے ۔چین، فرانس اور اسرائیل میں بھی شہریوں نے عالمی سطح پر ضابطوں اور قوانین کی ضرورت پر زور دیا۔ چلی کی طالبہ نے خبردار کیا کہ اے آئی انسانوں کو خود سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر رہی ہے ، جاپان میں ایک شہری نے کہا کہ اے آئی جذبات نہیں رکھتی، اس لیے انسانوں کی بعض صلاحیتوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔اے آئی کی تیز رفتار پیشرفت پرماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کہیں اس ٹیکنالوجی کی دوڑ انسانوں کے لیے سنگین خطرہ نہ بن جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments