ایران کا مزید مذاکرات نہ کرنیکا اعلان، امریکا کو مشرق وسطیٰ سے نکلنا پڑیگا : مجتبیٰ خامنہ ای
دردناک ضربیں لگنے کے بعد امریکاجلد خطے سے نکل جائیگا، ایران کو چوتھی سپر پاور قرار دیاجا رہا:ایرانی سپریم لیڈر ایرانی فضائی مسافروں کو مشکلات ،پروازیں مسلسل منسوخ،تہران کا امریکی پابندیوں کیخلاف عالمی اداروں سے رجوع
تہران،واشنگٹن(اے ایف پی)ایران نے امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ ایرانی سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود ایرانی وفد کا امریکا سے مزید مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے ، جن میں ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 7 شرائط پیش کی تھیں۔ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز مسترد کرتے ہوئے رواں ہفتے میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع ظاہر کی تھی ۔دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کی وساطت سے آج الگ الگ مذاکرات متوقع ہیں۔
بات چیت میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے پیش کی گئی تجاویز کے ترمیم شدہ مسودے پر غور کیا جائے گا۔تاہم مذاکرات کے مقام اور شرکا سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کو دردناک ضربیں لگنے کے بعد بالآخر مشرق وسطٰی سے نکلنا پڑے گا۔ ایران کی کارروائیوں کے بعد دشمن بحیرہ عرب سے آگے جانے کی جرات نہیں کرتا۔ اگر امریکا نے یہ خطرہ مول لیا تو اسے نقصان اٹھانا پڑے گا ،جلد بحیرہ عرب بھی امریکی موجودگی سے پاک ہوجائے گا۔امریکا اور اس کے اتحادیوں کو تکلیف دہ ضربیں لگ چکی ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے تحریری بیان میں کہا کہ خطے میں امریکی موجودگی جلد ختم ہوجائے گی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آج بعض لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں۔ملک کی دفاعی صلاحیتوں نے گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے ۔ایران سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کو امریکی پابندیوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے ، پروازوں کی اچانک منسوخی نے فضائی مسافروں کی پریشانی بڑھا دی ہے ۔ 49 سالہ ایرانی خاتون میترا کے مطابق بعض ایئرلائنز اب بھی ٹکٹ فروخت کررہی ہیں لیکن پروازیں مسلسل منسوخ ہوجاتی ہیں،ایران نے اپنے فضائی شعبے پر امریکی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے شکایت کردی۔
ایرانی سول ایوی ایشن کے سربراہ ابوذر شیروڈی نے بتایا کہ پابندیوں کے خلاف عالمی سول ایوی ایشن تنظیم میں باضابطہ احتجاج جمع کرایا گیا ہے ۔ عالمی عدالت انصاف سے بھی رجوع کیا ہے ۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل کے حملے میں 8 امریکی میرینز کے زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے تین امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ واقعہ 14 ستمبر کو پیش آیا، جب میزائل ایک ایسے بحری جہاز سے ٹکرایا جس پر امریکی میرینز سوار تھے ۔ حملے کے نتیجے میں اہلکاروں کو دھوئیں کے باعث سانس لینے میں دشواری ہوئی، جبکہ بعض میں سر درد اور دماغی چوٹ کی علامات بھی ظاہر ہوئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments