دنیا بھر میں ہزاروں ویب سائٹس بند ، انٹرنیٹ کے بنیادی سافٹ وئیر میں خطرناک خامیوں کا انکشاف

دنیا بھر میں ہزاروں ویب سائٹس بند ، انٹرنیٹ کے بنیادی سافٹ وئیر میں خطرناک خامیوں کا انکشاف

امریکا کی متعلقہ اداروں کومتاثرہ نظام انٹرنیٹ سے منقطع کرنیکی ہدایت،پی ایچ پی استعمال کرنے والوں کیلئے فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنا ناگزیر قرار نیدرلینڈز قومی شناختی سروس، سائبر سکیورٹی ،ڈنمارک کی بلدیاتی آئی ٹی کمپنی،بیلجیئم کی وزارت خارجہ ،فرانسیسی وزارت داخلہ سمیت کئی ویب سائٹس بند

واشنگٹن (اے ایف پی)انٹرنیٹ کے بڑے حصے کو چلانے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی (PHP) میں سکیورٹی کی دو انتہائی سنگین خامیوں کا انکشاف ہونے کے بعد دنیا بھر میں سرکاری اداروں اور کمپنیوں نے بدھ کو اپنی ویب سائٹس بند کردیں۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر سافٹ ویئر کی خامیاں دور کرنے یا متاثرہ نظام انٹرنیٹ سے منقطع کرنے کی ہدایت کردی۔امریکی ایجنسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ خامیاں اکثر حملہ آوروں کو سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہِ راست رسائی  فراہم کرسکتی ہیں۔ ان کے ذریعے ہیکرز پاس ورڈ کے بغیر بھی ویب سرورز کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔

پی ایچ پی انٹرنیٹ پر ویب سائٹس بنانے اور چلانے کے لیے استعمال ہونے والے متعدد مقبول پلیٹ فارمز کی بنیاد ہے ، اس لیے ان خامیوں سے آن لائن دکانوں، خبر رساں اداروں اور سرکاری خدمات سمیت بڑی تعداد میں ویب سائٹس متاثر ہوسکتی ہیں۔یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصنوعی ذہانت کے زیادہ طاقتور ماڈلز کی مدد سے سافٹ ویئر کی سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی میں تیزی آئی ہے ۔ 2026 میں سامنے آنے والی خامیوں کی تعداد رواں رجحان کے برقرار رہنے پر گزشتہ سال کے ریکارڈ سے تقریباً دگنی ہونے کا امکان ہے ۔

پی ایچ پی کے رضاکار ڈویلپرز نے بدھ کو ان خامیوں کا حل جاری کردیا۔ اس پروگرامنگ زبان کے ڈویلپرز کی مالی معاونت کرنے والے ادارے پی ایچ پی فاؤنڈیشن نے اپنے بلاگ میں کہا کہ پی ایچ پی استعمال کرنے والوں کے لیے فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنا ناگزیر ہے ۔سکیورٹی کمپنی کیلیف اور چیٹ جی پی ٹی بنانے والے ادارے اوپن اے آئی نے اگست میں ان خامیوں کی آزادانہ طور پر نشاندہی کرتے ہوئے ڈویلپرز کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں گوگل کی ملکیت کلاؤڈ سکیورٹی کمپنی وِز نے ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کے مزید طریقوں کی نشاندہی کی۔ان خامیوں کی اطلاع ابتدائی طور پر پی ایچ پی کے ڈویلپرز کو خفیہ طور پر دی گئی تھی تاکہ سافٹ ویئر کا حل تیار ہونے تک تفصیلات عام نہ ہوں۔ تاہم، طے شدہ اجرا سے ایک روز قبل، منگل کو ان کی تفصیلات انٹرنیٹ پر افشا ہوگئیں، جس کے بعد اداروں نے ہنگامی طور پر اپنی ویب سائٹس بند کرنا شروع کردیں۔نیدرلینڈز میں متعدد اداروں نے قومی سائبر سکیورٹی مرکز کی پیروی کرتے ہوئے عوامی رسائی کی ویب سائٹس بند کردیں۔ ان میں روٹرڈیم کی بندرگاہ، سرکاری پورٹل ’اوورہیڈ ڈاٹ این ایل‘فٹ بال ایسوسی ایشن ،کے این وی بی، قومی ڈیجیٹل شناختی سروس،پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس اور متعدد ہسپتالوں کی ویب سائٹس شامل ہیں۔

ڈنمارک کی بلدیاتی آئی ٹی کمپنی ’کومبٹ‘ نے بھی قومی تعلیمی رابطہ پلیٹ فارم سمیت متعدد خدمات بند کرنے کا اعلان کیا۔فن لینڈ میں انٹرنیٹ خدمات میں خلل مزید وسیع پیمانے پر دیکھا گیا، جہاں سرکاری آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ’والتوری‘نے کہا کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر سرکاری نیٹ ورک کی خدمات بند کردی گئی ہیں۔فرانس کی وزارت داخلہ نے بھی اپنی تمام ویب سائٹس کو احتیاطی دیکھ بھال کے لیے عارضی طور پر بند کردیا ہے ۔بیلجیئم کی وزارت خارجہ نے بھی احتیاطاً اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...