روس، امریکہ اور یوکرین کے مذاکرات 10 نومبر کے قریب دوبارہ شروع ہونے کا امکان
سینٹ پیٹرزبرگ: (شاہد گھمن) روس نے امریکہ اور یوکرین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات نومبر کے آغاز میں دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں واضح کیا کہ ماسکو 10 نومبر کے قریب مذاکرات بحال کرنے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے۔
روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن اور اسٹیو وٹکوف کے درمیان بدھ کو ہونے والی ملاقات تفصیلی اور کھلے ماحول میں ہوئی، جس میں یوکرین تنازع کے حل، سہ فریقی مذاکرات کی بحالی، روس اور امریکہ کے اقتصادی تعاون اور چین میں ممکنہ اعلیٰ سطحی ملاقات سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوری اوشاکوف کے مطابق یہ ملاقات کئی روز پہلے طے کی گئی تھی اور صدر پوتن اور اسٹیو وٹکوف کے درمیان یہ نویں ملاقات تھی، اس نوعیت کی ملاقاتیں روس اور امریکہ کے صدور کے درمیان باقاعدہ ٹیلی فونک رابطوں کا اہم تسلسل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر بھی ملاقات میں شریک ہونے والے تھے، تاہم طبیعت ناساز ہونے کے باعث وہ سینٹ پیٹرزبرگ نہیں پہنچ سکے اور ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت میں حصہ لیا۔
روسی صدارتی معاون کے مطابق ملاقات کا مرکزی موضوع یوکرین کی صورتحال تھی، اسٹیو وٹکوف نے صدر پوتن کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، یورپی ممالک، نیٹو اور یورپی کمیشن کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی نمائندے نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے کیف اور یورپی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے نئے طریقہ کار اور تجاویز کے بارے میں بھی صدر پوتن کو تفصیلات فراہم کیں۔
یوری اوشاکوف نے کہا کہ 9 اکتوبر کو صدر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے تسلسل میں یوکرین میں پائیدار امن کے قیام کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کے مطابق روس، امریکہ اور یوکرین کے نمائندوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی ممکنہ بحالی کے طریقہ کار پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
روسی صدارتی معاون نے بتایا کہ صدر پوتن نے اسٹیو وٹکوف کو آگاہ کیا کہ روس 10 نومبر کے قریب سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے، جن کا بنیادی موضوع روس اور یوکرین کے لیے سلامتی کے نظام کا قیام ہوگا۔
یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پوتن نے امریکی نمائندے کو یوکرین میں جاری فوجی کارروائیوں کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا، روسی صدر نے بتایا کہ روسی افواج کو محاذ جنگ پر اسٹریٹجک برتری حاصل ہے اور وہ تمام اہم سمتوں میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر پوتن نے یوکرین میں دفاعی صنعت کے مراکز، توانائی کی تنصیبات اور رسد کے مراکز پر روسی فوج کے جوابی حملوں کے بارے میں بھی امریکی نمائندے کو آگاہ کیا۔
روسی صدارتی معاون کے مطابق ملاقات میں روس سے امریکہ اور عالمی منڈیوں کو ڈیزل کی فراہمی سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کے معاملات بھی زیر بحث آئے، یہ معاہدہ 9 اکتوبر کو صدر پوتن اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے دوران طے پایا تھا۔
یوری اوشاکوف نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ روس اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے اور اس سے عالمی ایندھن کی منڈی میں طلب اور رسد کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ روسی ڈیزل پر بعض امریکی پابندیوں میں چھوٹ کے بعد معاہدے پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔
ملاقات میں روس اور امریکہ کے درمیان بڑے مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یوری اوشاکوف کے مطابق ان منصوبوں میں سے بعض اپنے آغاز کے قریب پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے اہم مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صدر پوتن نے دونوں ممالک کے درمیان مزید مشترکہ کام، خصوصاً انٹیلی جنس اداروں کی سطح پر تعاون میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔
روسی صدارتی معاون کے مطابق ملاقات میں نومبر میں چین کے شہر شینزین میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) سربراہی اجلاس کے موقع پر روس، امریکہ اور چین کے صدور کی ممکنہ سہ فریقی ملاقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ممکنہ ملاقات کے حوالے سے بعض عملی تجاویز پیش کیں۔
یوری اوشاکوف کے مطابق چین اس ممکنہ تاریخی ملاقات کی تیاریاں کر رہا ہے اور سازگار حالات میں اسے شینزین میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے پروگرام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماسکو، واشنگٹن اور بیجنگ میں سے کسی نے بھی تینوں ممالک کے صدور کی ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی صحافی پاویل زاروبن سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پوتن اور اسٹیو وٹکوف کی ملاقات کو بامقصد قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے بلکہ اس سے کچھ زیادہ دیر تک جاری رہی اور بات چیت معمول کے پیشہ ورانہ ماحول میں ہوئی۔
پیسکوف نے واضح کیا کہ امریکی خصوصی نمائندے کے آئندہ دورۂ روس کے حوالے سے فی الحال کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ جیرڈ کشنر نے بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات میں شرکت کی۔
روس کے خصوصی صدارتی نمائندے برائے سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون اور روسی براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کریل دمترییف نے بھی صدر پوتن اور اسٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments