وسط مدتی انتخابات شفاف ہوئے تو نتائج تسلیم کروں گا:ٹرمپ

وسط مدتی انتخابات شفاف ہوئے تو نتائج تسلیم کروں گا:ٹرمپ

کانگریس میں کنٹرول کھودیاتو ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کروں گا ،قانون سازی ویٹو کرنیکا اختیار ہے انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان ،تارکین وطن خوف کا شکار مہنگائی اور ایران کیساتھ جنگ پر عوامی غصے سے ری پبلکنز کیلئے مشکلات ، انتخابی جائزوں میں ڈیموکریٹس کو برتری ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت مل گئی تو ٹرمپ کو خاندانی کاروباری معاملات پر طلب کیا جاسکے گا

واشنگٹن(اے ایف پی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات    کے نتائج تسلیم کریں گے ، بشرطیکہ شفاف ہوں۔ ان کا یہ بیان بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے بے بنیاد دعووں کی جانب ایک اور اشارہ ہے ۔ٹیکساس میں انتخابی مہم کے لیے روانگی کے وقت ٹرمپ نے کہا کہ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کریں گے ، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صدر کی حیثیت سے انہیں قانون سازی کو ویٹو کرنے کا مضبوط اختیار حاصل ہے ۔ اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کئی برس سے بغیر ثبوت یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام ریاستوں میں لاکھوں غیر ملکی شہری ووٹ ڈالتے ہیں، جس سے انتخابی نتائج متاثر ہوتے ہیں۔

اب ان کے حامیوں نے ان الزامات کے حق میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق بعض ریاستوں میں مسلح وفاقی اہلکاروں کو گھروں پر بھیجا گیا تاکہ وہ لوگوں سے ان کی امیگریشن حیثیت اور سابقہ ووٹنگ کے بارے میں پوچھ سکیں۔ٹیکساس میں امریکی اٹارنی آرون رائٹز نے ابتدائی ووٹنگ شروع ہونے پر خبردار کیا کہ وفاقی انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرکے مقدمات چلائے جائیں گے ۔ دوسری جانب ٹرمپ نے انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے اس رقم کی ادائیگی یا انعامی اسکیم کے طریقئہ کار کی وضاحت نہیں کی۔وفاقی حکومت کی کارروائیوں سے تارکینِ وطن میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ انہیں پولنگ اسٹیشن جاتے ہوئے نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ دوسری جانب ٹرمپ کے مخالف ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پُرامید ہیں۔ مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ پر عوامی غصے نے ری پبلکنز کو ان ریاستوں میں بھی اپنی نشستوں کے دفاع پر مجبور کردیا ہے جہاں انہیں روایتی طور پر مضبوط حمایت حاصل رہی ہے ۔انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل ہے اور یہ فرق بڑھتا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب ری پبلکن انتخابی مہم چلانے والے گروپوں نے کروڑوں ڈالر ان ریاستوں میں منتقل کردئیے ہیں جنہیں پہلے محفوظ ری پبلکن علاقے سمجھا جاتا تھا۔ 3

نومبر کو ہونے والے انتخابات سے پہلے یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہے ۔ان انتخابات کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ نتائج پر سخت تنازعات کا خدشہ بھی ہے اور 2028 میں صدارتی عہدے کے لیے جانشین کی دوڑ کی بنیاد بھی پڑے گی۔اگر ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت مل گئی تو ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو روکنے کے ساتھ انہیں انتظامیہ، خاندانی کاروباری معاملات اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق فیصلوں کی تحقیقات کے لیے طلبی کے اختیارات بھی حاصل ہوجائیں گے ۔سینیٹ کا کنٹرول واپس لینے سے ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کے نامزد کردہ ججوں اور کابینہ کے ارکان کی تقرریاں روکنے کا اختیار بھی مل جائے گا۔انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنروں کا انتخاب بھی ہوگا۔ کانگریس کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں صرف تین اور سینیٹ میں چار نشستیں ری پبلکنز سے چھیننا ہوں گی۔ہفتے کے اختتام تک 2 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ ووٹر پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے تھے ، جبکہ 2022 کے انتخابات میں اسی مرحلے پر یہ تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ تھی۔ کئی ریاستوں میں روایتی ری پبلکن ووٹرز کی پیشگی ووٹنگ میں شرکت ڈیموکریٹس کے مقابلے میں کم رہی ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...