اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پالتو شیروں کے حملے

گزشتہ پانچ روز کے دوران پنجاب کے مختلف شہروں میں پالتو شیروں کے شہریوں پر حملوں کے کم از کم تین واقعات ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز فیصل آباد میں ایک وائلڈ لائف ملازم ایک رہائشی علاقے میں غیرقانونی طور پر رکھے گئے شیرکے حملے کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گیا‘ اس سے قبل لاہور میں دو مختلف واقعات میں شیروں کے حملوں میں دو بچے شدید زخمی ہو ئے۔ محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کی گزشتہ برس کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبے میں 580 سے زائد شیر شہریوں کے پاس نجی تحویل میں ہیں‘ جن میں اکثریت یا تو غیرقانونی ہے یا مالکان وائلڈ لائف لائسنس کی شرائط پوری نہیں کرتے۔

حکومتِ پنجاب نے گزشتہ برس جولائی میں شہری علاقوں میں شیروں کو نجی تحویل میں رکھنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا‘ تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ شہری علاقوں میں خطرناک جنگلی جانور پالنے والے بیشتر افراد بااثر سیاسی پشت پناہی کے حامل ہیں‘ جس کی وجہ سے متعلقہ ادارے انکے خلاف کارروائی سے کتراتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ محض قوانین بنانے تک محدود نہ رہے بلکہ ان پر بلاامتیاز عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔ وائلڈ لائف ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے کیساتھ ساتھ عوام کو جنگلی جانوروں کے خطرات اور اس ضمن میں قانونی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور فراہم کیا جانا بھی ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں