بورڈ آف پیس سے امیدیں
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان کہ غزہ بورڈ آف پیس میں اس امید کیساتھ شمولیت اختیارکی ہے کہ غزہ میں امن قائم ہو گا‘ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کے مقاصد کو واضح کرتا ہے ۔ گزشتہ جمعرات کو جب سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی اس حوالے سے خاصا ابہام پایا جاتا تھا‘ تاہم وزیراعظم کے بیان سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے مقاصد واضح ہوجانے کے بعد امید ہے کہ تمام شبہات دور ہو جائیں گے اور اس معاملے میں قومی رائے میں یکجہتی پیدا ہو گی۔وزیر اعظم کی جانب سے قوم کو اعتماد میں لینے کا یہ اقدام خوش آئند ہے۔ بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر اگر فلسطین کے حقوق کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا جاسکے تو اس شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں بنتا‘ تاہم حکومت کو یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ مذکورہ مقاصد سے سر مو انحراف نہیں کر ے گی اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی بنیادی پالیسی کو ہر صورت رہنما اصول کے طور پر پیش نظر رکھا جائے گا۔اس فیصلے پر پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے تاکہ قومی اتفاقِ رائے پیدا ہو اور کسی قسم کے منفی پروپیگنڈا کی گنجائش نہ پیدا ہو۔

یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ عالمی سیاست کا توازن اب تبدیل ہو رہا اور اس نئے دور میں سفارتکاری کے میدان بھی بدل رہے ہیں۔ موجودہ دور دیکھو اور انتظار کرو کے بجائے فعال سیاسی کردار کا متقاضی ہے۔ جو ممالک نئے ابھرتے حالات کا بروقت ادراک کریں گے وہی اپنی پوزیشن کا تحفظ کر سکتے اور اپنے مفادات کا حصول یقینی بنا سکتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ بروقت اور صائب اقدام معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف ملکی خارجہ پالیسی کے ایک نئے رخ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ تنازعات میں پاکستان کے فعال کردار کی واپسی کا اشارہ بھی ہے۔ اس فیصلے پر سعودی عرب‘ ترکیہ‘ انڈونیشیا اور قطر جیسے اہم مسلم ممالک کیساتھ ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ یہ فیصلہ خوب سوچ بچار کے بعد اور متفقہ طور پر کیا گیا۔ امریکہ کی سربراہی میں بننے والے اس بورڈ میں شامل ہو کر پاکستان نے واشنگٹن کیساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی جہت دی ہے‘ جس سے دوطرفہ تعاون کے مزید راستے کھلیں گے۔
ان حالات میں ایک نئے عالمی فورم پر پاکستان زیادہ بہتر انداز میں غزہ اور فلسطین کا مسئلہ اجاگر کرنے اور فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔ گزرے چند برسوں میں پاکستان کو سفارتی محاذ پر متعدد چیلنجز کا سامنا رہالہٰذا یہ فیصلہ پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا باعث بن سکتا اور اس بات کا اعلان بھی کہ نئے سفارتی افق پر پاکستان ردعمل کی سیاست سے نکل کر فعال سفارتکاری کے ذریعے اپنا کردار منوانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ شمولیت جہاں نئے مواقع لائی ہے وہاں بڑے خطرات اور چیلنجز بھی درپیش ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک کیساتھ عالمی معاملات بالخصوص مسلم ممالک کے مسائل کے حوالے سے مشترکہ مؤقف اپنایا جائے‘ اس طرح اسرائیل اور مغربی لابی کے یکطرفہ ایجنڈے کی روک تھام ہو سکے گی اور نئے آنے والے چیلنجز سے نمٹنا بھی آسان ہو جائے گا۔
گزشتہ آٹھ دہائیوں میں اقوامِ متحدہ کے فورم سے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پائیدار قیامِ امن کیلئے کی گئی کوششیں ثمر آور ثابت نہیں ہو سکیں‘ لہٰذا اب دیرینہ مقصد کے حصول کیلئے محض حکمتِ عملی تبدیل کی جا رہی ہے تو اس میں مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی مہارت اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو گی بلکہ پاکستان کو خلیج عرب کے خطے میں مزید اہم بنا دے گی۔