اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تجارتی خسارہ

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران خطے کے نو ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 44فیصد تک بڑھ کر سات ارب 68کروڑ ڈالر ہو گیا ہے‘ جو گزشتہ برس پانچ ارب 32کروڑ ڈالر تھا۔ چین کے ساتھ تجارت میں خسارہ سب سے زیادہ رہا‘ چھ ماہ کے دوران چین سے نو ارب 47کروڑ ڈالر کی اشیا درآمد کی گئیں جبکہ برآمدات کا حجم محض ایک ارب 21کروڑ ڈالر رہا۔ بنگلہ دیش کو برآمدات میں تقریباً آٹھ فیصد‘ سری لنکا کو 27فیصد جبکہ افغانستان کو برآمدات میں 56فیصد کمی ہوئی۔ حکومت کو علاقائی ممالک کو برآمدات بڑھانے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔ اس مقصد کیلئے توانائی کی قیمتوں میں کمی‘ ٹیکسوں میں نرمی‘ برآمد کنندگان کو آسان قرضوں اور ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کے ساتھ ساتھ مستحکم اور دیرپا معاشی پالیسیاں ناگزیر ہیں۔

اس کے علاوہ قابلِ تجارت مصنوعات کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور علاقائی ممالک کے ساتھ آزاد یا ترجیحی تجارتی معاہدے بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ خام مال کی برآمد کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ دے کر‘ صنعتی معیار بہتر بنا کر اور برآمدی مصنوعات کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ملک عزیز اپنے جغرافیائی محل وقوع‘ انسانی وسائل اور اقتصادی مواقع کی بنیاد پر علاقائی تجارت کا ایک مضبوط مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے مگر اس کیلئے ویژن‘ تسلسل اور پالیسی سنجیدگی ناگزیر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں