اتائیت کی روک تھام ضروری
ملکِ عزیز میں صحت کا شعبہ ایک ایسے سنگین بحران سے دوچار ہے جس سے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایک خبر کے مطابق ملک بھر میں اس وقت چھ لاکھ سے زائد اتائی کام کر رہے ہیں جو سرے سے طب کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے یا صرف چند ماہ کسی مستند ڈاکٹر کے ساتھ کام کر کے اپنا کلینک کھولے ہوئے ہیں۔ یہ نیم حکیم ادویات کے مضر اثرات اور صحیح مقدار سے لاعلم ہوتے ہیں‘ ان کی یہ لاعلمی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اتائی ملک میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤکے بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ اتائی ایک ہی سرنج بار بار اور طبی آلات بھی جراثیم سے پاک کیے بغیر دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ صورتحال صحتِ عامہ کے نظام کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔

حکومت اور متعلقہ حکام کو صحت کے دشمن ان نوسربازوں کے خلاف سخت اور موثر کارروائیاں کرنی چاہیے ‘ ان کے خلاف قوانین کو مضبوط بنانا چاہیے اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی پھیلانی چاہیے کہ وہ اتائیوں کے بجائے مستند ڈاکٹر سے ہی رجوع کریں۔ ملک میں اتائیت کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو توجہ نہیں ملتی‘ گھنٹوں خوار ہونے کے بعد بھی ان کے معمولی ٹیسٹ نہیں ہوتے اور نہ ادویات ملتی ہیں۔ اتائیت کی روک تھام کیلئے سرکاری شعبۂ صحت کی اصلاح اورمعیاری علاج کی سہولیات ناگزیر ہیں۔