شرح سودمیں کمی کا مقدمہ
ماہرینِ معیشت اور کاروباری حلقوں کی توقع کے برعکس اس بار شرح سود میں کمی نہیں کی گئی۔ گورنر سٹیٹ بینک نے گزشتہ روز یہ فیصلہ سناتے ہوئے یہ بھی بتادیا کہ رواں سال کی دوسری ششماہی کے کچھ مہینوں میں افراطِ زر سات فیصد سے اوپر جا سکتا ہے۔ 15 دسمبر 2025ء کو ہونے والے اپنے پچھلے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 50 پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کیا تھا تاہم افراطِ زر میں کمی اور دیگر اقتصادی عوامل کے پیشِ نظر معاشی ماہرین اور کاروباری حلقے توقع کررہے تھے کہ اس بار بھی 50سے 75بیسز پوائنٹ تک کمی کی جاسکتی ہے ‘ یوں ملک میں شرح سود سنگل ڈیجٹ میں آ جائے گی جو معاشی حلقوں کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ تاہم مانیٹری پالیسی کمیٹی کے رواں سال کے پہلے اجلاس میں یہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ملک میں شرح سود کو ایک سال پہلے کے مقابلے میں دیکھا جائے تو سو فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

گزشتہ برس اپریل میں شرح سود 22فیصد تھی جو اس وقت 10.5فیصد ہے‘تاہم افراطِ زر کی موجودہ شرح کے ساتھ شرح سود میں مزید کمی کی توقع تھی ۔ زیادہ شرح سود کا مطلب ہے مہنگے قرضے‘ جو کہ صنعتی ترقی کے لیے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ صنعت اور کاروبار کی نمو کے لیے قرضوں کا سستا ہونا ضروری ہے تا کہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو ‘ پیداوار اور روزگار کے مواقع بڑھیں ‘ بلند شرح سود اس میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اب تک نمایاں کمی آ چکی ہے مگر اب بھی ملکِ عزیز میں سود کی شرح اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے۔ بھارت میں اس وقت شرح سود5.25فیصد ہے‘ سر ی لنکا میں 7.75فیصد‘ نیپال میں 5.75فیصد‘ بنگلہ دیش میں 10فیصد جبکہ ویتنام اور چین میں شرح سود بالترتیب 4.5فیصد اور تین فیصد ہے۔ اس طرح ان ممالک میں قرضے سستے اور ان سے سرمایہ کاری میں منافع کا امکان واضح طور پر زیادہ ہے۔یہ صورتحال ان ممالک میں صنعتی اور کاروباری منصوبوں کے لیے قدرتی طور پر معاون اور مددگار ہے اور کاروباری لاگت میں کمی کا ایک بڑا سبب بھی۔
مگر ہمارے ہاں صنعتی اور کاروباری لاگت کے جملہ عوامل خطے کے دیگر ممالک کی نسبت مہنگے ہیں۔ توانائی مہنگی‘ ٹیکس زیادہ اور نظام پیچیدہ اور قرضوں پر سود کی شرح بھی بلند تر۔ یہی عوامل خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کاروباری لاگت 34فیصد زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ ہیں اور یہ وجہ ہمارے ملک میں صنعتی جمود اور سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کی بڑی وجہ ہے۔ حکومتی سطح پر معاشی نمو بڑھانے ‘ صنعتی ترقی اور برآمدات کو دوگنا کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر اس کام کے لیے جو بنیادی شرائط ہیں وہ پوری ہونے کو نہیں آتیں۔ ان حالات میں ملکی معیشت کو سرمایہ کاری کے لیے کیونکر پُر کشش بنایا جا سکتا ہے؟ صنعتی اور کاروباری نمو کے لیے سود کی شرح میں نمایاں کمی اور اسے خطے کے ترقی پذیر ممالک کی سطح پر لانا ضروری ہے تا کہ پاکستان کاروباری ماحول اور مواقع میں دوسروں سے پیچھے نہ رہے۔ کاروباری مواقع اور سہولیات میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مسابقت قائم رکھے بغیر بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پُرکشش امکانات کا پیدا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ سرمایہ کار تو وہیں جائے گا جہاں اسے کم لاگت پر منافع زیادہ نظر آئے۔
اس دوڑ میں پاکستانی معیشت خطے کے ممالک سے پیچھے ہو گی تو صنعتی ترقی کا امکان بھی کم ہو جائے گا۔ یہ بات ایک بار پھر دہرانے میں مضائقہ نہیں کہ ملکِ عزیز کو قدرت نے بے پناہ وسائل اور امکانات سے نوازا ہے مگر ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے جو کچھ کیا جانا ضروری ہے وہ نہ ہوتو ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ برآمدات میں دوگنا اضافہ ‘ روزگار کے نئے مواقع اورعوامی قوتِ خرید کو بڑھانا اسی صورت ممکن ہے جب صنعت اور کاروبار ترقی کریں گے۔