اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تنخواہ داروں پر ٹیکس کا بوجھ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین کا یہ اعتراف کہ ملک میں تنخواہ دار طبقے پر علاقائی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیکس عائد ہے‘ غیرمنصفانہ اور غیرمتوازن ٹیکس نظام پر ایک بڑا سوال ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں تنخواہ دار طبقے سے 266ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا‘ جو ملک بھر سے حاصل ہونے والے مجموعی انکم ٹیکس کا قریب دس فیصد ہے۔ تنخواہ دار افراد اپنی مجموعی آمدن کا اوسطاً 38فیصد تک ٹیکس کی صورت میں ادا کرتے ہیںجو نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ اندرونِ ملک ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے منافع بخش شعبوں کے مقابلے میں بھی خاصا زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے چیئرمین کے بیان کے مطابق ملک بھر میں صرف 55 ہزار ڈاکٹر ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد اپنی حقیقی آمدن ظاہر نہیں کرتی ہے۔

اسی طرح لاکھوں افراد قیمتی جائیدادیں خریدنے کے باوجود ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے جو ریاستی عملداری پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ٹیکس نیٹ کو دیانت داری سے وسعت دی جائے اور ٹیکس چوری میں ملوث شعبوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے تو نہ صرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے بلکہ محصولات میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ اس طرح ایک مضبوط‘ مستحکم اور عادلانہ ٹیکس نظام بھی قائم ہو سکتا ہے۔ ایسا نظام ہی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے‘ سماجی تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد کی خلیج کو کم کر سکتا ہے جو کسی بھی پائیدار معاشی اصلاح کی بنیادی شرط ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں