آبی گزرگاہوں میں تجاوزات
ملک بھر میں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب میں 151‘ سندھ میں 164 اور خیبرپختونخوا میں 251آبی گزرگاہیں اب بھی تجاوزات سے متاثر ہیں جبکہ بلوچستان میں آبی تجاوزات کے حوالے سے مستند اعداد و شمار تک دستیاب نہیں۔ ملکِ عزیز ہر سال مون سون میں سیلابوں کا سامنا کرتا ہے ۔ آبی گزرگاہوں میں تجاوزات سیلابوں کی تباہ کاریوں میں اضافہ کرتی ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعدخیبر پختونخوا میں حکومت نے دریاؤں کے کنارے تعمیرات پر پابندی اور دیگر حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا تھا مگر یہ اعلانات کاغذوں تک محدود رہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ برس کے سیلاب میں بھی آبی گزرگاہوں میں موجود تجاوزات جانی و مالی نقصان کا باعث بنیں۔

ہر سال بارشوں سے تباہی کے بعد آبی تجاوزات کے خلاف شور مچتا ہے‘ اجلاس ہوتے ہیں‘ کمیٹیاں بنتی ہیں مگر برسات کے ختم ہوتے ہی یہ سب وعدے سرد خانے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہی رویہ اس مسئلے کی سنگینی کو بڑھا رہا ہے۔ آبی گزرگاہوں میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے یکساں‘ مسلسل اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہر صوبے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کی زندگیوں اور فصلوں کو مون سون کے خطرات سے بچایا جا سکے۔