غذائی قلت
ایک خبر کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران تھرپارکر میں غذائی قلت کے باعث پچاس سے زائد بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ غذائی قلت سے متاثرہ درجنوں بچے اب بھی سول ہسپتال مٹھی میں زیر علاج ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ بچے پیدائشی طور پرغذائی قلت اور قوتِ مدافعت کی کمی کا شکار تھے۔غذائی قلت صرف تھرپارکر کا مسئلہ نہیں‘ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2025ء میں پاکستان 123 ممالک میں سے 106ویں نمبر پر تھا‘ جو غذائی تحفظ کے حوالے سے حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ روز افزوں مہنگائی‘ بے روزگاری اور کمزور معاشی سکت نے عام شہری کیلئے دو وقت کی متوازن خوراک کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔

یہ صورتحال فوری حکومتی توجہ کی متقاضی ہے۔ حکومت کو مہنگائی میں کمی اور شہریوں کی آمدن بڑھانے کیلئے ہنگامی معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ لوگ اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کر سکیں۔ حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ سول ہسپتال مٹھی میں زیر علاج بچوں کو معیاری طبی سہولیات‘ غذائی سپلیمنٹس اور مؤثر نگہداشت فراہم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں فوری مفت راشن کی تقسیم‘ حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کیلئے غذائی پروگرام اور بنیادی مراکز صحت کو فعال بنانا ناگزیر ہے۔ اگر غذائی قلت جیسے سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تویہ ایک دن پورے سماج کا اجتماعی المیہ بن جائے گا۔