بلوچستان میں دہشت گردی
گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں نے جس طرح منظم حملے کئے وہ بلا شبہ باعثِ تشویش ہے ‘مگر سکیورٹی فورسز کی مستعدی اور اور کم سے کم وقت میں حملہ آوروں کو ٹھکانے لگانے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سکیورٹی خدشات اگرچہ موجود ہیں لیکن ملکی دفاع کی ذمہ داری مضبوط اور بہترین پیشہ ورانہ اہلیت کی حامل سکیورٹی فورسز کے پاس ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ روز دہشت گردی کے سلسلہ وار واقعات میں سکیورٹی فورسز نے کم از کم بارہ مقامات پر دہشت گردی کے حملے ناکام بنائے ۔ ان کارروائیوں میں 67 دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ اس تعدادسے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کس قدر سنگین اور بڑے پیمانے پر تھے۔ مقامِ شکر ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں سے دہشت گردی کے تقریباً سبھی واقعات کو ناکام بنادیا گیا۔ اس سے ایک روز پہلے بھی بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 40 کے قریب دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

بلوچستان میں دہشت گردی مکمل طور پر بھارتی سپانسرڈ ہے جبکہ دہشت گردوں کو افغانستان کی سر زمین کی پناہ گاہیں دستیاب ہیں۔ملکی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کا ہر واقعہ شدت پسندی کے انہی عوامل سے جڑجاتا ہے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی دہشت گردوں کے کلیدی اہداف ہیں۔ گزشتہ روز گوادر میں دہشت گردوں نے خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے 11افراد کو شہید کیا جن میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل تھے۔دہشت گردی کے ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انکے پیچھے مقاصد عام شہریوں کو ہدف بنا نا اور معاشرے میں انتشار پیدا کر کے اپنی قوت کا احساس دلانا ہے‘ تاہم سکیورٹی فورسز نے جس تیزی کیساتھ ردعمل دیا اس نے دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بلوچستان کے درجن بھر علاقوں میں بیک وقت دہشت گردی کے واقعات کو ناکام بنانے میں سکیورٹی فورسز کا کردار لائقِ ستائش ہے‘ مگریہ صورتحال ایک لمحۂ فکریہ بھی ہے جو کئی سوال چھوڑ گیا ہے۔ دہشت گردوں کے درجن بھر شہروں میں بیک وقت سر اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تنظیمی ڈھانچہ بلوچستان میں موجود ہے ‘ ٹھکانے اور لاجسٹک سہولیات بھی ہیں۔ دہشت گردی کے یہ واقعات بلوچستان میں نئی حکمت عملی کے ساتھ فتنہ الہندوستان کا صفایا کرنے کی ضرورت کوواضح کرتے ہیں۔دہشت گردوں کے بیرونِ ملک ٹھکانے اگرچہ ایک حقیقت ہیں مگر بلوچستان کے دشوار گزار اور بے آب و گیاہ ویرانے بھی دہشت گردوں کیلئے چھپنے کے ٹھکانے مہیا کرتے ہیں۔ بلوچستان میں بیرونی مداخلت‘ تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر انتظامات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک شہری دفاعی حکمت عملی کے ساتھ پہاڑوں اور صحراؤں کی نگرانی کے مؤثر انتظامات نہ کئے جائیں۔
حکومت کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور روزگار کے مواقع کے ساتھ بلوچ سماج میں سمانے کیلئے بھی زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔پسماندہ اور محروم بلوچستان دہشت گردوں کے حق میں موافق ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ترقی کے منصوبے اور معاشی امکانات اُن کا ہدف ہیں۔ دہشت گردوں کوسماج سے الگ تھلگ کرنے کیلئے ریاست کو بلوچ شہریوں کے ساتھ تعلق کو اور مضبوط کرنا چاہیے ۔تعلیم اور روزگار کے زیادہ مواقع کی اہمیت اپنی جگہ مگر انصاف کا فقدان معاشرے کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔ بلوچستان کا سماج اس کیلئے بطور خاص قابلِ توجہ ہے کہ قبائلی نظام کی وجہ سے محرومی اور حق تلفی روایت بن چکی ہے۔ بلوچستان کو دہشت گردوں کے شکنجے سے چھڑانے کیلئے بلوچستان کیساتھ یکجہتی کو بڑھانا ہو گا۔