بلدیاتی انتخابات کا التوا
جمہوری ملکوں میں مقامی حکومتوں کا نظام عوام کو درپیش مسائل کے حل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ان ملکوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات تسلسل کیساتھ ہوتے ہیں اور انہیں ممکنہ اختیارات کیساتھ وسائل کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ ملکِ عزیز میں صورتحال اسکے برعکس ہے‘ انتخابات اور جمہوری عمل کی نگرانی کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بلدیاتی انتخابات چھ مرتبہ ملتوی کیے جا چکے ہیں۔یہ تسلسل محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ جمہوری عمل کی کمزوری کا اظہار ہے۔ جب طے شدہ انتخابات بار بار ملتوی ہوں تو اس سے نہ صرف امیدواروں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی میں عوام کو روزمرہ مسائل کے حل کیلئے بیوروکریسی یا اراکینِ اسمبلی کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے جو بنیادی طور پر قانون سازی کیلئے منتخب ہوتے ہیں نہ کہ گلی محلوں کے مسائل حل کرنے کیلئے۔ نتیجتاً عوامی معاملات تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ مقامی نمائندگی کے بغیر احتساب کا مؤثر نظام بھی قائم نہیں رہتا۔ مقامی حکومتیں محض انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت مضبوط نہیں رہ سکتی۔وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اسلام آباد میں انتخابات کا بروقت انعقاد یقینی بنا کر جمہوری عمل کو تقویت دی جائے۔