وینٹی لیٹرز کی قلت
محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ نے صوبے کے نظامِ صحت کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 12کروڑ آبادی والے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں صرف 411وینٹی لیٹرز ہیں‘ یعنی تقریباً دو لاکھ 92ہزار افراد کیلئے ایک وینٹی لیٹر۔ یہ اعداد و شمار سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ وہ مریض جو بیماری کی شدت کی وجہ سے خود سانس نہیں لے پاتے‘ وینٹی لیٹر ان کیلئے سانسوں کا سلسلہ برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں‘ لیکن خبروں کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی قلت کے باعث سالانہ ہزاروں مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحت کا شعبہ حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

اوّل تو ملک میں سرکاری ہسپتالوں کی تعداد ہی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے اور جو ہیں وہ سہولتوں سے محروم ہیں۔ کہیں بستروں کی کمی کا سامنا ہے‘ کہیں ڈاکٹر موجود نہیں ‘ کہیں ادویات میسر نہیں۔ ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی میں مسلسل غفلت اور وسائل کی غیرمناسب تقسیم مریضوں کی جان کے لیے خطرہ بن چکی ہے‘لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں آبادی کے تناسب سے وینٹی لیٹرز‘ آئی سی یو بیڈز‘ طبی عملے اور دیگر بنیادی طبی سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولتیں میسر آ سکیں۔