منافع خوری اور مہنگائی
وفاقی ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026ء میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر تقریباً سات فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف مہنگائی میں اضافے بلکہ رمضان المبارک میں عوام کو درپیش مشکلات کے بھی عکاس ہیں۔ مہنگائی میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ رمضان المبارک میں ہونے والی ناجائز منافع خوری ہے۔ ملک کے کسی شہر میں بھی عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیائے خور و نوش دستیاب نہیں۔ بالخصوص پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ ہر دکاندار کا اپنا ریٹ ہے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سرکاری نرخوں اور مارکیٹ کی عملی قیمتوں میں فرق انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہو چکا لیکن منافع خوری پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔

منافع خوروں کو نکیل ڈالے بغیر مہنگائی کی روک تھام ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے جامع حکمت عملی مرتب کرے جو وقتی اقدامات تک ہی محدود نہ ہو بلکہ مستقل بنیادوں پر ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ یقینی بنائے۔ اس حکمت عملی میں سپلائی چین کو مضبوط بنانے‘ شفافیت بڑھانے اور منڈی میں قیمتیں کنٹرول کرنے جیسے عملی اقدامات شامل ہوں۔ ساتھ ہی رمضان بچت بازاروں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ شہریوں کو سستے داموں اشیائے ضروریہ میسر آ سکیں۔