عوامی اعتماد بحال ؟
ایک حالیہ سروے کے مطابق 40 فیصد پاکستانیوں کا ماننا ہے کہ ملک درست سمت میں گامزن ہے۔ 2024ء کی پہلی سہ ماہی میں صرف 12 فیصد افراد ملک کی سمت سے مطمئن تھے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو سیاسی کشیدگی‘ معاشی دباؤ اور علاقائی تناؤ جیسے چیلنجز کا سامنا رہا‘ عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ قابلِ ذکر پیشرفت ہے۔سروے کے مطابق معیشت کو مضبوط قرار دینے والوں کی شرح چار فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد‘ ذاتی مالی حالات میں بہتری کی توقع رکھنے والے افراد کی تعداد 35فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد اور گھریلو اشیا کی خریداری میں سہولت کا احساس چار فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم دوسری جانب اب بھی 60 فیصد آبادی یا تو حکومتی کارکردگی اور پالیسیوں سے غیر مطمئن یا بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔

صرف 12 فیصد افراد کا گھریلو خریداری میں خود کو پُراعتماد محسوس کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی معاشی سکون ہنوز دور ہے۔ اگر حکومت اس مثبت رجحان کو پائیدار بنانا چاہتی ہے تو اسے مہنگائی پر کنٹرول کرنا ہو گا‘ روزگار کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر محصولات کا منصفانہ نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ ٹیکسوں کا بوجھ چند طبقوں پر ہی نہ رہے۔ مزید یہ کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو زیادہ شفاف اور ٹارگٹڈ بنایا جائے تاکہ کمزور طبقات براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں۔ پالیسیوں کا تسلسل‘ سیاسی استحکام اور گورننس میں شفافیت ہی وہ عناصر ہیں جو معاشی پیشرفت کو دیرپا اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔