ٹریفک حادثات
پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں صوبے میں تقریباً 38ہزار ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 410افراد جاں بحق اور 19ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ حادثات کا شکار ہونے والوں میں 69فیصد موٹر سائیکل سوار تھے۔ بڑھتے ٹریفک حادثات ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکے ہیں جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں ٹریفک حادثات سے مرنیوالوں کی تعداد دہشتگردی اور بیماریوں سے مرنیوالوں سے کہیں زیادہ ہے۔ عوام کی کثیر تعداد کا ہر روز حادثات کا شکار ہونا یقینا نظام میں خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ ہر چھوٹے بڑے شہر کا مسئلہ ہے۔ علاوہ ازیں شہری آبادی میں اضافے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ناکافی انتظام کی وجہ سے ذاتی گاڑیوں‘ موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ٹریفک کا دباؤ اور حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اگرچہ اب ٹریفک قوانین کی پابندی کے حوالے سے سختی کی جا رہی ہے‘تاہم ٹریفک حادثات میں انسانی غلطیوں کے علاوہ پالیسی سقم اور روڈ انجینئرنگ جیسے مسائل بھی کارفرما ہیں‘ جن کیلئے ہمہ جہت کام ہونا چاہیے۔اس حوالے سے عوام میں شعور و آگاہی پھیلانا بھی ضروری ہے اور تادیبی نظام کو سخت اور فعال بنانے کے علاوہ روڈ انجینئرنگ کے مسائل اور پالیسی سقم کو بھی دور کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور یہ کام اربابِ بست وکشاد کی خصوصی توجہ کے بغیر ممکن نہیں۔