ایران جنگ، نیا سفارتی امتحان
مشرقِ وسطیٰ کے افق پر چھائے جنگ کے گہرے بادل اور علاقائی ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے اس وقت پوری دنیا کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی پورے خطے کو خاکستر کر سکتی ہے۔ ان سنگین حالات میں پاکستان کی سفارتی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا قومی اسمبلی میں یہ بیان کہ پاکستان بیک ڈور میں رہ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے‘ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا غماز ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پچھلے تین دنوں میں پاکستان کئی ممالک سے رابطہ کر چکا ہے‘ کوشش کی جا رہی ہے کہ ڈائیلاگ کے ذریعے افہام وتفہیم سے معاملے کا حل نکل آئے۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور ایران کے علاوہ ترکیہ اور خلیجی ممالک کے سربراہان سے رابطہ کیا ہے تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

پاکستان کی قیادت عالمی برادری کو یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور اگر خطے کے ممالک ایک پیج پر نہ آئے تو بیرونی مداخلت کے باعث ہونے والی تباہی کا نقصان سب کو یکساں طور پر اٹھانا پڑے گا۔ اگر ہم ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو گزشتہ سال جون میں واشنگٹن اور تہران میں ایک پُل کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان نے جنگ بندی میں مؤثر کردار ادا کیا تھا اور دونوں ممالک نے پاکستان کے اس کردار کی تحسین بھی کی تھی۔ آج ایران جنگ کی صورت میں پاکستان کو ایک نیا سفارتی امتحان درپیش ہے لہٰذا کامیاب سفارتی پالیسیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس جدید دور میں یہ کھلی حقیقت ہے کہ جنگ کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے معاشی‘ سماجی اور ماحولیاتی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اگر فوری جنگ بندی عمل میں نہ آئی تو اس کا براہِ راست اثر تیل و گیس کی قیمتوں‘ عالمی سپلائی چین اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑے گا۔
پاکستان جو پہلے ہی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے‘ اس کیلئے یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ پاکستان کی کُل افرادی قوت کا بڑا حصہ خلیجی ممالک میں موجود ہے۔ چالیس لاکھ سے زائد پاکستانی عرب ممالک میں مقیم ہیں جبکہ 33 ہزار سے زائد جنگ زدہ ایران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں وزارتِ خارجہ میں ایک کرائسز مینجمنٹ سیل قائم کیا گیا ہے جبکہ مختلف ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کو ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔ سمندر پار پاکستانی بلاشبہ ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں‘ جو ترسیلاتِ زر سے ملکی معیشت میں بھی کلیدی حصہ ڈال رہے لہٰذا ان کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ تاہم دوسری جانب سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے اور پس پردہ کوششوں کے ساتھ فعال اعلانیہ سفارتکاری بھی حالات کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اس وقت پوری مسلم ورلڈ کی نظریں پاکستان اور ترکیہ جیسے بڑے مسلم ممالک پر ٹکی ہیں جن کے تمام ممالک کے ساتھ گہرے سفارتی روابط ہیں۔
دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اگر جنگ کا پھیلائو اسی طرح جاری رہتا ہے تو پوری دنیا کی معیشت بدترین بحران کا شکار ہو سکتی ہے‘ اسی لیے جنگ بندی کی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان ہوتا ہے لیکن ان کے خاتمے کا اختیار کسی ایک فریق کے پاس نہیں رہتا۔ طاقتور ممالک اور متحارب حریفوں‘ سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ افہام وتفہیم ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ طاقت اور بارود سے دیرپا امن قائم نہیں کیا ہو سکتا۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کیے جانے والے فیصلے میدانِ جنگ میں کیے گئے فیصلوں سے کہیں زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔ افہام و تفہیم کا راستہ نہ صرف علاقائی استحکام لائے گا بلکہ اس سے انسانی جانوں کے ضیاع کو بھی روکا جا سکے گا جو کسی بھی جنگ کا سب سے المناک پہلو ہوتا ہے۔