اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آبی قلت‘ خطرے کی گھنٹی

وزارتِ آبی وسائل کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمع کرا ئی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ملک میں پانی کی فی کس دستیابی  899مکعب میٹر رہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1951ء میں ملک میں فی کس پانی کی دستیابی 5260مکعب میٹر تھی لیکن آبادی میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کے باعث اس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اوراگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2030ء میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی 795 مکعب میٹر تک رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ رپورٹ ملک کو درپیش سنگین آبی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ آبادی میں اضافے کے علاوہ ملک میں بڑھتی آبی قلت کی وجوہات میں ناقص واٹر مینجمنٹ‘ کمزور ادارہ جاتی صلاحیت اور آبی وسائل کے شعبے میں ناکافی سرمایہ کاری وغیرہ شامل ہیں۔ پانی کی سب سے زیادہ کھپت زرعی شعبے میں ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں پانی کے محتاط استعمال کا رجحان نہیں‘ آبی ماہرین کے مطابق سالانہ دستیاب پانی کی 60فیصد مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ سمجھا جائے تو پانی کی قلت کے حوالے سے ہم اب خطرے کے نشان سے زیادہ دور نہیں‘ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ آبی ذخائر کی تعداد بڑھائے‘ زرعی آبپاشی کے لیے جدید وسائل متعارف کرائے جائیں جن سے پانی کی خاصی بچت ہو سکتی ہے‘ نیز عوام میں پانی کے محتاط استعمال کی عادت کو فروغ دے تاکہ آبی قلت کا بحران سنگین صورت نہ اختیار کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں