جنگ کے معاشی اثرات
ایران اسرائیل جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات ملکی معیشت تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں جنگی خطرات‘ بڑھتے انشورنس پریمیم اور متبادل بحری راستوں کے اضافی اخراجات کی مد میں پاکستان آنے والے ہر کنٹینر پر 1500سے 2000ڈالر تک اضافی چارجز وصول کرنے لگی ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملکی بندرگاہوں پر یومیہ تقریباً پانچ ہزار کنٹینرز ہینڈل ہوتے ہیں‘ یعنی ان کنٹینروں پر روزانہ 75لاکھ سے ایک کروڑ ڈالر تک اضافی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ یہ بوجھ یقینی طور پر درآمد کنندگان‘ صنعتکاروں اور صارفین پر منتقل ہو گا جس سے ملک میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہوگی‘ جو پہلے ہی اٹھارہ مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور درآمدی اخراجات میں اضافہ برآمدی شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو کمزور کریں گے۔

اس صورتحال کے تناظر میں حکومت کو متبادل تجارتی راستوں اور بندرگاہی چارجز میں ریلیف جیسے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ حکومت فرنس آئل پر عائد کاربن لیوی اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو کم یا معطل کرکے برآمدی شعبے کی مسابقت برقرار رکھ سکتی ہے۔ علاوہ ازیں نجی شعبے سے مشاورت کر کے ایسی جامع پالیسی بنائی جائے جو معیشت کو ممکنہ جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکے۔ یہ حکومت کیلئے وقت آزمائش ہے کہ وہ داخلی معاشی پالیسیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو عالمی بحران کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھتی ہے۔