علاقائی صورتحال اور قومی سلامتی کے تقاضے
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور پاک افغان سرحد پر ابھرتے خطرات پاکستان کیلئے علاقائی اور قومی سلامتی کے تناظر میں اہم ہیں۔یہ ایسی صورتحال ہے جہاں داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان نازک عالمی اور علاقائی حالات کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو دی جانے والی اِن کیمرہ بریفنگ متفقہ قومی بیانیہ اپنانے کی ایک سعی ثابت ہو سکتی تھی تاہم یہ نشست بھی ہماری روایتی سیاسی رسہ کشی کی نذر ہو گئی۔ اپوزیشن کی جانب سے سیاسی مطالبات منظور نہ کیے جانے پر حساس ایشو پر اِن کیمرہ یریفنگ کے بائیکاٹ نے سیاسی تلخی کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ہمارے ملک کی سیاسی قیادت‘ خواہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں‘ حساس معاملات کو سیاسی مفادات سے بالا تر رکھنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اس صورتحال میں اِن کیمرہ اجلاس بھی حجت پوری کرنے کی ایک کوشش بن کر رہ گیاہے۔

جب وزارتِ خارجہ کے حکام اور قومی سلامتی سے متعلقہ ادارے ملک کو درپیش سنگین خطرات پر بریفنگ دے رہے تھے تو دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈرز کی خالی نشستیں اور بڑی سیاسی جماعت کی عدم موجودگی اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ سیاسی اختلافات کی خلیج اس قدر وسیع ہو چکی ہے کہ اب ریاست کو درپیش بیرونی خطرات بھی سیاسی قیادت کو ایک میز پر جمع کرنے کیلئے کافی نہیں رہے۔ یہ بریفنگ جو متفقہ قومی بیانیے کی تشکیل کا ذریعہ بننی چاہیے تھی‘ سیاسی اختلافات کے اظہار کا ذریعہ بن کر نمایاں ہوئی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کیلئے وہ لچک نہیں دکھائی جس کی اس وقت ضرورت ہے۔ ایک جمہوری نظام میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حزبِ اختلاف کے جائز تحفظات کو سنے اور ان کا ازالہ کرے۔ اگر حکومت اپوزیشن کے بنیادی مطالبات تسلیم کر لیتی اور بریفنگ سے قبل دوستانہ ماحول بنانے کی کوشش کرتی تو ملک میں سیاسی مفاہمت کا ایک مضبوط تاثر اجاگر ہوتا۔
سیاسی معاملات اپنی جگہ لیکن جب معاملہ ملکی سلامتی اور خارجہ امور کی نزاکت کا ہو تو حکومت کو کشادہ دلی سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر اپوزیشن کو ساتھ ملانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا رویہ بھی تعجب خیز ہے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی احتجاج اور قومی ذمہ داریوں میں ایک واضح لکیر ہوتی ہے۔ حکومت سے شکایات یا سیاسی مطالبات اپنی جگہ لیکن جب بات ملک کی دہلیز پر دستک دیتے عالمی بحران اور ملکی سرحدوں کی سکیورٹی کی ہو تو بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرنا ذمہ دارانہ سیاسی طرزِ عمل نہیں۔ اس اقدام سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اپوزیشن سیاسی مفادات اور قومی بقا کے معاملات میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ وہ فورم جہاں سے قومی یکجہتی اور اتحاد کا پیغام جانا چاہیے تھا‘ سیاسی تقسیم کا حوالہ بن کر رہ گیا ہے۔ ہمارے اردگرد حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں‘ جنگ کے بادل ہماری سرحدوں تک پہنچ چکے ہیں۔
ایسے نازک ترین حالات میں بھی حکومت اور اپوزیشن کا اپنی اپنی روش پر قائم رہنا لمحہ فکریہ ہے۔ اِن کیمرہ بریفنگ میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی جو تجویز دی گئی‘ وہ بھی اس وقت تک بے اثر رہے گی جبکہ تک حکومت اور اپوزیشن کے اراکین ایک میز پر یکجا نہیں ہوتے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں اپنی اپنی اَنا کو قربان کریں اور ایک قدم پیچھے ہٹیں۔ حکومت اپوزیشن کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرے جبکہ اپوزیشن کو اہم قومی امور کو سیاسی احتجاج کی بھینٹ چڑھانے کی روش ترک کرنا ہو گی۔پاکستان اس وقت معاشی بحران اور دہشت گردی کی نئی لہر سے نبرد آزما ہے‘ ایسے میں بیرونی محاذ پر پیدا ہونے والی کشیدگی ہماری معیشت اور سکیورٹی پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ ابھرتے خطرات اور ملکی سرحدوں کے حالات اس وقت کسی بھی قسم کی داخلی لڑائی یا سیاسی تقسیم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔