اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غذائی تحقیق و اصلاحات ناگزیر

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا یہ کہنا کہ ملک کے زرعی تحقیقاتی نظام میں جامع اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں‘ اسی ضرورت کا اظہار ہے‘ قومی زرعی نظام جس کا مدت سے متقاضی ہے۔ ہمارے ملک کا کسان طویل عرصے سے روایتی زرعی طریقوں پر گامزن ہے‘ جس کے سبب روز افزوں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کمزور ہے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ بھی محدود رہا ہے۔ اسلئے اب وقت آ گیا ہے کہ نئے بیجوں‘ جدید زرعی تکنیکوں اور تحقیقاتی بنیادوں پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو اپنایا جائے تاکہ غذائی تحفظ مضبوط ہو سکے۔

اس مقصد کیلئے ملک بھر کے تحقیقاتی اداروں کو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنانا ناگزیر ہے تاکہ وہ پیداوار بڑھانے‘ غذائی تحفظ مضبوط کرنے اور برآمدات کو فروغ دینے جیسے اہداف حاصل کر سکیں۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی زرعی تحقیقاتی ادارے ایک دوسرے سے الگ تھلگ کام کر رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے وسائل اور انسانی صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں۔ مربوط زرعی تحقیق کیلئے کراس ڈسپلنری اپروچ اپنانا ہو گی تاکہ نتائج عملی اور تجارتی طور پر مؤثر ہوں۔ اگر یہ اصلاحات بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کی جائیں تو پاکستان کے کسان جدید اور سائنسی بنیادوں پر تیار شدہ وسائل سے مستفید ہو سکیں گے‘ اور ملک کی زرعی پیداوار‘ غذائی تحفظ اور عالمی مسابقت میں نمایاں اضافہ ممکن ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں