اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

اقربا پروری کی حوصلہ شکنی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے مطابق سٹیٹ بینک نے اہم سیاسی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کیلئے نئی ریگولیشنز تیار کی ہیں جن کے مطابق ان عہدوں پر رہتے ہوئے نہ صرف یہ شخصیات بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور قریبی رفقا بھی کوئی کاروبار نہیں کر سکتے۔ اس اقدام کا مقصد ریاستی اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال کی راہیں مسدود کرنا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا کہ جب بھی کوئی فرد اہم سیاسی یا سرکاری منصب پر فائز ہوتا ہے تو وہ میرٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے عزیز و اقارب یا قریبی رفقا کو سرکاری ٹھیکوں‘ کاروباری مواقع یا دیگر معاشی سہولتوں کی صورت میں غیرمعمولی فائدے پہنچاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف شفافیت کو متاثر کرتا بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اس پس منظر میں سٹیٹ بینک کی جانب سے نئی ریگولیشنز اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔

اگر ان قواعد و ضوابط پر مؤثر انداز میں عملدرآمد ممکن بنا لیا گیا تو سرکاری عہدوں کے حامل افراد کیلئے اپنے اختیارات کو ذاتی یا خاندانی مفادات کیلئے استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کیساتھ ساتھ کاروباری اور مالیاتی معاملات میں شفافیت بڑھے گی‘ مسابقتی ماحول کو فروغ ملے گا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ تاہم ضروری ہے کہ ان ریگولیشنز کے دائرہ کار کو واضح اور متوازن رکھا جائے تاکہ ایک طرف مفادات کے ناجائز استعمال کا راستہ روکا جا سکے تو دوسری طرف کسی فرد کے جائز معاشی حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں