مشرقِ وسطیٰ میں امن، معاشی بقا کا تقاضا
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر کیساتھ ٹیلیفونک گفتگو اور سعودی عرب کا ہنگامی دورہ ایک بروقت اور تزویراتی اہمیت کا حامل اقدام ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی یہ سفارتی تگ ودو خطے میں امن کی بحالی کی ایک مخلصانہ کوشش سمجھی جائے گی۔ وزیراعظم کا سعودی عرب کا ہنگامی دورہ اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کے دو اہم ستونوں کے درمیان حائل خلیج کو کم کرنے اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ایک پُل کا کردار ادا کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے سبب عالمی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے جہاں ایک طرف اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی روس کی قرارداد کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کر دیا گیا‘ وہیں دوسری جانب روس کی جانب سے جنگ بندی کیلئے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے سفارتی تنازع کو جنم دیا ہے۔ امریکی کی جانب سے ویٹو پاور کا استعمال انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کوششوں کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے‘ تاہم اب جبکہ امریکہ اور ایران‘دونوں کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے دیے جا رہے ہیں‘ عالمی برادری کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جنگی صورتحال میں ایسے سفارتی مواقع بہت کم میسر آتے ہیں جب متحارب فریقین کسی حد تک لچک دکھانے پر آمادہ ہوں لہٰذا اس وقت کی اولین ترجیح دونوں ممالک کے امن اشاروں کو ایک پائیدار معاہدے میں تبدیل کرنا ہونی چاہیے۔ پاکستان کیلئے یہ وقت کڑے امتحان کا ہے۔ اپنی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کر دینی چاہئیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن نہ صرف پورے عالم اسلام کے استحکام کی ضمانت ہو گا‘ بلکہ یہ پوری دنیا کی معاشی ضرورت بھی ہے۔ اگر اس وقت فوری طور پر جنگ بندی عمل میں نہ آئی تو اس کے اثرات اسی طرح پھیلتے اور دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیتے رہیں گے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی طور پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور وزیر خزانہ کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں اب یہ خدشہ بھی سر اٹھا رہا ہے کہ اگر کشیدگی فوری کنٹرول میں نہ آئی تو تیل کے بعد گیس کا ایک شدید بحران سر اٹھا سکتا ہے۔ یورپ اور بھارت سمیت کئی ممالک میں گیس بحران کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان بھی اس پیچیدہ علاقائی صورتحال کے منفی اثرات سے زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ توانائی کا یہ بحران پاکستان کیلئے اسلئے بھی دہرا امتحان ثابت ہو سکتا ہے کہ یہ ہمارے جاری معاشی بحران کو دوچند کر دے گا جبکہ صنعت اور زراعت کیساتھ عام آدمی کی زندگی کو بھی مفلوج کر کے رکھ دے گا جس کی تلافی برسوں تک ممکن نہیں ہو سکے گی۔
مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ عالمی معیشت کے ڈھانچے کی بنیادوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ دنیا اس وقت ایک مربوط معاشی نظام سے جڑی ہوئی ہے جہاں توانائی کی سپلائی لائنز میں معمولی سی رکاوٹ بھی مہنگائی کی ایک ایسی لہر اٹھا سکتی ہے جسے کنٹرول کرنا کسی بھی ریاست کے بس میں نہیں رہے گا۔ جنگ کا فوری خاتمہ اب محض علاقائی امن کی ضرورت ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کی بقا کا تقاضا بھی بن چکا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں بارآور ثابت نہ ہوئیں اور مشرقِ وسطیٰ کا بحران مزید سنگین ہوا تو یہ ترقی پذیر ممالک کیلئے ایسی معاشی تباہی برپا کر سکتا ہے جو ایک بڑے انسانی المیے میں بدل جائے۔ لہٰذا کوشش کی جانی چاہیے کہ علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں جیسے چین اور روس کیساتھ مل کر پائیدار امن کی مربوط سفارتی کوششیں مزید تیز کی جائیں۔ خلیجی خطے میں امن کی شمع روشن ہونے سے نہ صرف دنیا کا معاشی مستقبل محفوظ ہوگا بلکہ پوری دنیا ایک بڑے انسانی المیے سے بھی محفوظ رہے گی۔