اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

منکی پاکس کا پھیلاؤ

ملک میں منکی پاکس کے کیسوں میں اضافہ صحت عامہ کے ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں 18سالہ نوجوان میں منکی پاکس کی تصدیق کے بعد شہر میں رواں سال منکی پاکس کے کیسوں کی تعداد 33تک پہنچ گئی ہے۔ یہی تشویشناک رجحان سندھ میں بھی دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں رواں برس اب تک 25 کیس جبکہ نو اموات بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا سے بھی 26کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک صوبے تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک گیر شکل اختیار کر چکا ہے۔ طبی ماہرین کی جانب سے خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں منکی پاکس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا خدشہ موجود ہے۔

منکی پاکس بنیادی طور پر قریبی جسمانی رابطے‘ جسمانی رطوبتوں اور آلودہ اشیا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس لیے متاثرہ افراد کی بروقت شناخت‘ ان کو فوری طور پر قرنطینہ میں منتقل کیا جانا اور ان سے رابطہ رکھنے والے افراد کی نگرانی نہایت ضروری ہے۔ صوبائی حکومتوں اور محکمہ صحت کو اس مرض کے حوالے سے عوام میں آگاہی پھیلانی چاہیے۔ اس کیساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں قرنطینہ وارڈز کا قیام‘ منکی پاکس کے تشخیصی نظام کو تیز اور مؤثر بنانا‘ سیمپل کی ترسیل کے بہتر انتظامات اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے مربوط نظام کو فعال کرنا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں