گیس بحران کا حل
ایک خبر کے مطابق آذربائیجان نے پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قطر سے ایل این جی کی سپلائی میں خلل پید ا ہو نے کی وجہ سے ملک کو گیس کے بحران کا سامنا ہے۔اس وقت تقریباً 55 سو میگا واٹ بجلی درآمدی ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے حاصل کی جاتی ہے جس کی وجہ سے گیس کی دستیابی میں کمی براہِ راست بجلی کی پیداوار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ گھریلو صارفین اور صنعتی شعبہ اس سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مقامی گیس ذخائر کی کمی کے باعث ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدی ایل این جی پر انحصار ہے اور قطر پاکستان کا سب سے بڑا اور مستقل سپلائر ہے لیکن موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث یہ سپلائی معطل ہوئی۔ اس تناظر میں آذربائیجان کی پیشکش اس بحران سے نکلنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔

دونوں ملکوں کے مابین گزشتہ برس ایل این جی کی درآمد کیلئے ایک بنیادی فریم ورک معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے۔ حالیہ علاقائی صورتحال نے ثابت کیا ہے کہ کسی ایک سپلائر یا خطے پر انحصار بحران کے وقت مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ملکی توانائی پالیسی میں تنوع پیدا کرے‘ طویل المدتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ متبادل سپلائی چینز کو بھی فعال کرے اور مقامی پیداوار میں اضافہ کو ترجیح دے۔ بصورت دیگر توانائی بحران وقتی نہیں بلکہ مستقل معاشی دباؤ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔