مذاکرات کا تسلسل ضروری
امریکہ اوریران تنازع اس نہج پر ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف سفارت کاری اور مفاہمت ہی سے ممکن ہے۔ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی کاوشوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے مگر کشیدگی تاحال برقرار ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ بے یقینی اور خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں بھی مکمل طور پر تیار رہا جائے۔ امریکہ کی جانب سے اگرچہ جمعہ کے روز مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے مگر ایران مذاکرات کی بحالی کو امریکہ کی ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر رہا ہے۔ الغرض صورتحال اس قدر گمبھیر ہے کہ ایک چھوٹی سی غلط فہمی بھی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سبب توانائی کی عالمی منڈی بھی لرز رہی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے دنیا کو اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ عالمی معیشت جو پہلے ہی کووڈ اور دیگر علاقائی تنازعات کے اثرات سے نبرد آزما ہے‘ اب تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی جی ڈی پی میں براہِ راست 2.5 فیصد کمی کا اندیشہ ہے جبکہ گلوبل افراطِ زر کی شرح‘ جو اس وقت اوسطاً چھ سے آٹھ فیصد کے قریب ہے توانائی بحران کے نتیجے میں 12 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے‘ جس سے غریب ممالک کے لیے اپنی خوراک اور ایندھن کی ضروریات پوری کرنا لگ بھگ ناممکن ہو جائے گا۔ لہٰذا دنیا کا معاشی مستقبل اب براہِ راست ان مذاکرات کی کامیابی سے جڑا ہوا ہے۔ اس سنگین صورتحال میں فریقین کو اپنی اپنی انا کے خول سے نکل کر معروضی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔
ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی تنہائی ایرانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے جبکہ امریکہ کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ ناکہ بندی اور پابندیاں پائیدار حل فراہم کرنے کے بجائے خطے کو نئی کشیدگی میں دھکیل رہی ہیں۔ اس جنگ کی معاشی اور عسکری قیمت دونوں ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ میز پر بیٹھ کر باہم اتفاقِ رائے سے یہ مسئلہ حل کیا جائے۔ اگرچہ پاکستان سفارتی طور پر مزید فعال ہو گیا ہے اور امن معاہدے کے لیے حتی المقدور کوششیں کر رہا ہے‘ تاہم ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقین کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ اگر طرفین اپنے مؤقف میں تھوڑی نرمی دکھائیں اورکچھ لو اور کچھ دوکی بنیاد پر درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں تو ایک بڑا تصادم ٹالا جا سکتا ہے۔ دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے اور آئندہ چند روز نہایت اہم ہیں۔
اگر کوئی بریک تھرو ہوتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن کی نوید لائے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی اس گہرے بحران سے نکالنے میں مدد دے گا جس میں دنیا اس وقت دھنسی ہوئی ہے۔ بصورتِ دیگر نقصان اتنا شدید ہوگا کہ اسے سمیٹنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ وقت بہت کم ہے اور چیلنجز بہت بڑے لیکن لچک‘ مفاہمت اور مؤثر سفارتکاری کی صورت میں ایک ایسا راستہ موجود ہے جو دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچا سکتا ہے۔ جنگ بندی میں عارضی توسیع کو پائیدارامن معاہدے میں بدلنے کے لیے مذاکراتی سلسلے کو بہرصورت بحال کرنا ہو گا۔