اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گردشی قرض میں اضافہ

ایک خبر کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 224 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بجلی شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 1837ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ گردشی قرض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومتی ادارے بجلی کا نظام چلانے والی کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر پاتے اور سود بڑھنے کے سبب  قرض کا حجم بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں حکومت نے بجلی کے شعبے کے گردشی قرض اور آئی پی پیز کی ادائیگی کیلئے 18 بینکوں کے کنسورشیم سے1225 ارب روپے قرض لیا تھا۔ اس سے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2393ارب روپے سے کم ہو کر 1614ارب روپے پر آ گیا مگر اب پھر اس میں اضافہ جاری ہے۔

یہ صورتحال حکومتی پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جو نظام میں موجود نقائص کو دور کرنے کیلئے اصلاحات کے بجائے قرضوں کو آسان حل سمجھتی ہے ۔ بجلی بنانے سے لے کر اس کی ترسیل‘ تقسیم اور بلنگ کے نظام تک ہر شعبے میں اس قدر نقائص موجود ہیں کہ محض قرضوں سے ان خرابیوں کو دور نہیں کیا جا سکتا۔ گردشی قرضے کے حقیقی اسباب یعنی بجلی کے مہنگے پیداواری ذرائع‘ بجلی چوری‘ ناقص ترسیلی نظام اور گورننس جیسے مسائل کو جب تک عملی طور پر حل نہیں کیا جاتا‘ اس وقت تک گردشی قرضے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے نظام میں موجود نقائص کو دور کرے تاکہ گردشی قرضے پرقابو پایا جا سکے اور عوام کو بلا تعطل اور سستی بجلی میسر آ سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں