اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سرمایہ کاری، معاشی استحکام اور زمینی حقائق

ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔وزیر خزانہ نے رواں مالی سال جی ڈی پی چار فیصد تک رہنے کی اُمید بھی ظاہر کی ہے۔ حکومت اقتصادی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کے فروغ کو اولین ترجیح قرار دیتی ہے مگر اعداد وشمار اور کاروباری حالات اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ مالی سال 2022ء میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح جی ڈی پی کے تناسب سے 15.6 فیصد ریکارڈ کی گئی‘ جو امید افزا علامت تھی مگر اس کے بعد سے یہ شرح کم ہونا شروع ہو گئی۔ اگلے تین سال یہ بالترتیب 14.1 فیصد‘ 13.1 فیصد اور 13.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد سے زائد کمی آئی۔ اگرچہ اب اعداد و شمار بیرونی سرمایہ کاری میں کچھ بہتری ظاہر کر رہے ہیں مگر یہ شرح اب بھی خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش اور  بھارت کے مقابلے میں آدھی ہے‘ جہاں یہ تناسب 28 سے 33 فیصد ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب اور دیگر ممالک پاکستان میں آئی ٹی‘ زراعت‘ کان کنی اور تیل کی پیداوار جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کا اعلان بھی کر چکے ہیں مگر مسلسل پیش رفت کے باوجود حالات ابھی اس مقام تک نہیں آئے کہ ان سرمایہ کاری معاہدوں کو عملی صورت میں ڈھالا جا سکے۔ رواں سال توانائی اور کان کنی جیسے کچھ شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے‘ لیکن دوسری جانب صنعتی توسیع اور نئی مشینری کی درآمد میں کمی کا رجحان پیداواری صلاحیت کے جمود کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ تین برس میں شرح سود میں نصف کمی کے باوجود نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں وہ اضافہ نہیں دیکھا گیا جو معاشی نمو کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بزنس کانفیڈنس انڈیکس کی حالیہ رپورٹ چشم کشا ہونی چاہیے جس کے مطابق ملک میں بیشتر کاروباری ادارے مایوسی کا شکار ہیں اور نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ یقینا مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے بھی معاشی بے یقینی کو بڑھاوا دیا ہے مگر پاکستان جیسے ملکوں کیلئے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے‘ جہاں یہ غیر یقینی سیاسی‘ معاشی اور قانونی ہر سطح پر موجود ہے۔ یہاں سرمایہ کار کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے ماہ بجلی و گیس کے نرخ کیا ہوں گے‘ یا کون سا نیا ٹیکس متعارف کرا دیا جائے گا یا کرنسی کس قدر مستحکم رہے گی۔ جب مقامی سرمایہ کار ہی خوفزدہ ہو تو غیر ملکی سرمایہ کاری کی کیا امید کی جا سکتی ہے؟ ان حالات میں سرمایہ کاری یا شرح نمو میں نمایاں اضافے کی امید خوش گمانی سے زیادہ کچھ نہیں۔

اگر سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سرفہرست پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ ہر نئی حکومت یا ہر چند ماہ بعد عالمی مالیاتی ادارے کی نئی شرائط گزشتہ پالیسیوں کو یکسر تبدیل کر دیتی ہیں۔ سرمایہ کار کو ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں سالوں کا نہیں‘ دہائیوں کا منصوبہ بنایا جا سکے۔ دوسرا بڑا مسئلہ مہنگی توانائی کا ہے‘ جس کی وجہ سے ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کی پوزیشن کھو چکی ہیں۔ مسلسل سیاسی تناؤ کی صورتحال نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض بیانات یا مختصر ریلیف پیکیجز سے سرمایہ کاری کو راغب نہیں کیا جا سکتا‘ اس کیلئے سیاسی و پالیسی استحکام اولین شرط ہے۔ حکومت کی ترجیحات درست ہو سکتی ہیں مگر اصلاحات کا سفر طویل اور خاصا کٹھن ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ زبانی دعووں سے نکل کر عملی اور پائیدار اصلاحات کا آغاز کیا جائے تاکہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور منافع بخش ملک بن سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں