اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیسے کی آلودگی‘ سنگین خطرہ

یونیسیف اور وزارتِ صحت کی ایک مشترکہ رپورٹ میں ملک کے سات بڑے شہروں میں‘ ایک سے تین سال عمر کے 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ سیسہ انسانی صحت کیلئے ایک خطرناک دھات ہے‘ جس کی انسانی جسم بالخصوص بچوں کیلئے کوئی بھی مقدار محفوظ تصور نہیں کی جاتی مگر ملک کے سات شہروں میں بچوں کے خون کے تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیسہ نہ صرف ماحول کے ذریعے بچوں کے خون میں شامل ہو رہا ہے بلکہ یہ زہر ان کے اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر ان کی ذہنی نشوونما کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ جب ملک کی نسلِ نو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہو گی تو وہ فعال اور کارآمد قوم کیسے بن سکے گی۔

اس سنگین صورتحال کی سب سے بڑی وجہ صنعتی آلودگی کے پھیلاؤ سے متعلق قوانین کا غیر مؤثر ہونا ہے۔ فیکٹریاں اور کارخانے زہریلا دھواں اور فضلہ بلا روک ٹوک انسانی بستیوں اور شہری علاقوں میں خارج کر رہے ہیں جس سے سیسہ سانس کے ذریعے انسانی خون میں داخل ہو رہا ہے۔ جب تک صنعتی آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی نہیں کی جائے گی اور ماحولیاتی قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا جائے گا تب تک اس زہر کے پھیلاؤ کو روکنا ناممکن ہے۔پینٹ‘ مسالوں اور کاسمیٹکس کی تیاری میں بھی سیسہ کی مقدار کو بلاتاخیر ضابطے میں لانا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں