اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن کی بحالی

پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے دہشت گردی کی جو لہر اٹھی تھی‘ حالیہ کچھ مہینوں کے دوران اس میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ اپریل کے مہینے میں دہشت گرد حملے مارچ کے مقابلے میں 42 فیصد کم تھے۔ مارچ میں دہشت گردی کے 146 واقعات کے مقابلے اپریل میں یہ تعداد 85 رہی۔ اگر رواں سال کے ابتدائی دو مہینوں (جنوری‘ فروری) کا موازنہ مارچ اور اپریل سے کیا جائے تو سال کے پہلے دو ماہ قدرے پُرتشدد رہے‘ خصوصاً فروری کا مہینہ کافی خون ریز رہا‘ مگر اسی دوران سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور نئی دفاعی ڈاکٹرائن جسے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا نام دیا گیا‘ خاصے مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور ان کامیاب کارروائیوں کے نتائج دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

غضب للحق کے ذریعے افغانستان میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔ امن کی بحالی سے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تصدیق ہوئی کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی خدشات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں نصف کے قریب کمی یقینا ایک بڑی کامیابی ہے اور اس تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے بچے کھچے عناصر کا تعاقب بھی ضروری ہے‘ جو ابھی تک روپوش ہیں یا سرحد پار سے نئی سازشوں کے جال بُن رہے ہیں۔ جب تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا‘ پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں