اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمیاتی تبدیلی اورنقل مکانی

ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں بالخصوص پنجاب میں شدید بارشیں‘ سیلاب‘ خشک سالی‘ ہیٹ ویوز اور دیگر موسمیاتی خطرات لاکھوں افراد کو اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس اچانک نقل مکانی کے اثرات ملکی معیشت‘ شہری ڈھانچے‘ سماجی استحکام اور انسانی زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس کے غیر معمولی سیلاب کے نتیجے میں جنوبی پنجاب کے چھ اضلاع سے بے گھر ہونیوالے پانچ لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد قریبی شہروں کا رخ کر چکے ہیں‘ جس سے پہلے ہی محدود وسائل کے حامل شہری مراکز پر بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔

متاثرہ افراد اکثر کچی آبادیوں اور غیر محفوظ علاقوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جہاں نہ بنیادی سہولتیں موجود ہوتی ہیں اور نہ ہی باعزت روزگار کے مواقع۔ اگر موسمیاتی نقل مکانی کو فوری طور پر قومی پالیسی کا حصہ نہ بنایا گیا تو یہ بحران مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو محض ہنگامی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ متاثرین کو وقتی امداد کے بعد بے یار و مددگار چھوڑنے کے بجائے رہائش‘ صحت‘ تعلیم‘ روزگار اور سماجی تحفظ کی سہولتوں کیساتھ نئے مقامات پر آباد کیا جانا چاہیے تاکہ وہ شہری استحصال اور غربت کے نئے دائرے میں داخل نہ ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں