دہشت گردی کا عفریت
منگل کے روز خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ بازار میں ریلوے پھاٹک کے قریب ہونے والا دھماکہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس بات کا انتباہ ہے کہ دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھارہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا بالخصوص اس کے جنوبی علاقوں میں دہشت گردی اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات تشویش ناک ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات سے یہ بھی واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اب بازاروں‘ چوراہوں اور عوامی اجتماعات جیسے آسان اہداف کو ٹارگٹ کیا جا رہا تاکہ شہریوں کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ یہ واقعات دو دہائی قبل کے حالات کی یاد دلاتے ہیں جب پاکستان دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے نبرد آزما تھا اور بم دھماکے روز کا معمول بن چکے تھے۔ دس ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں اور ستر ہزار سے زائد شہریوں کی شہادت‘ اربوں ڈالر کے نقصانات اور ایک دہائی کی جدوجہد کے بعد ریاستی ادارے اس مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 2015-16ء کے بعد سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی‘ تاہم اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے اور علاقائی شدت پسند تنظیموں کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں میسر آنے کے بعد دہشت گردی کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔

2021ء کی دوسری ششماہی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ 2025ء میں اپنے عروج پر پہنچ گیا جب اس سال کو گزشتہ ڈیڑھ دہائی کا خونیں ترین سال قرار دیا گیا‘ جس میں دہشت گردی کے واقعات میں سالانہ بنیادوں پر 73 فیصد کا ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے بارہا اس مسئلے کو افغان عبوری انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا گیا اور اس حوالے سے مصدقہ شواہد بھی فراہم کیے گئے کہ سرحد کے اُس پار موجود تنظیمیں پاکستان میں دہشت گردی کر رہیں مگر کابل انتظامیہ کا کردار اس تمام صورتحال میں نہایت منفی رہا۔ 2020ء کے دوحہ معاہدے میں افغان طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی‘ لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس نکلی۔ کالعدم ٹی ٹی پی‘ داعش اور دیگر گروہوں کو سرحد پار جو سہولت کاری میسر ہے وہی پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ افغان عبوری حکومت کے لیت ولعل نے دہشت گردوں کو حوصلہ دیا کہ وہ پاکستان میں کارروائیاں کر کے بہ آسانی سرحد پار روپوش ہو جائیں۔ دوسری جانب سیاسی محاذ پر بھی اس حساس مسئلے کو غیر سنجیدگی کا سامنا رہا‘ جس سے دہشت گردوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا‘ تاہم رواں سال فروری میں پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاق‘ صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا۔
اسی ماہ آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا‘ جس کے تحت سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے گزشتہ دو مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔ اب عوامی مقامات پر دہشت گردی کے واقعات یہ ظاہر کر رہے کہ شکست خوردہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے امن کے قیام کیلئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ خیبر سے کراچی تک‘ لہو سے سینچی اس دھرتی پر دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی بستیوں کو مقتل بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اگر کابل انتظامیہ اپنی روش نہیں بدلتی تو پاکستان کو آپریشن غضب للحق کے تسلسل سمیت اپنے حقِ دفاع کے تمام حربے اپنانے چاہئیں۔ دہشت گردی کا حقیقی خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردوں کے ساتھ ان کی نرسریوں اور ٹریننگ کیمپوں کا بھی قلع قمع کیا جائے۔