بجلی سستی ہو گی؟
مہنگی بجلی نے عوام اور معیشت دونوں کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی کا یہ بیان کہ حکومت بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہی ہے کہ لوگ دن میں بیٹریاں چارج کر کے رات کو استعمال کریں گے ‘خوش کن ہے۔ بجلی سستی ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ حکومت آئی پی پیز کے کاروبار سے نکل آئی ہے۔مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ عوام اب بھی بجلی کے بلوں میں بھاری کپیسٹی پیمنٹس ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں نیپرا حکام نے انکشاف کیا کہ حکومت آئی پی پیز کو سالانہ 1800سے 2000 ارب روپے تک کپیسٹی ادائیگیاں کرتی ہے جبکہ تقریباً 1200 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔ ملک میں فی یونٹ اوسط ٹیرف 36 روپے ہے جس میں سے 18 روپے صرف کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے کئی معاہدے قومی معیشت پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے بعض معاہدوں پر نظرثانی کی ہے لیکن اصل ضرورت صرف نئے آئی پی پیز روکنے کی نہیں بلکہ مہنگے اور غیر متوازن معاہدوں کے مکمل خاتمے کی ہے۔ جب تک بجلی کے شعبے سے غیر ضروری مالی بوجھ ختم نہیں ہوگا‘ عوام کو حقیقی ریلیف ملنا مشکل ہے۔ اگر حکومت کپیسٹی چارجز میں کمی کے ساتھ سمارٹ میٹرنگ‘ شفاف بلنگ اور قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دے تو بجلی سستی ہو سکتی اور گردشی قرضوں میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔