اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خلاف جنگ

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق 13مئی کو بارکھان میں سینی ٹائزیشن آپریشن کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی میں سات دہشت گرد مارے گئے‘ تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے میجر سمیت پانچ جوان وطن پر قربان ہو گئے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کا ایک بڑا چیلنج ہے۔ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کا اغوا بھی اسی خطرناک رجحان کی کڑی ہے۔ تعلیمی شخصیات کا اغوا اس بات کی علامت ہے کہ دہشتگرد عناصر صوبے کے تعلیمی اداروں‘ ترقیاتی منصوبوں اور قومی یکجہتی کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ملک کے مغربی علاقوں میں بڑھتی دہشت گردی کا براہِ راست تعلق افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے ہے۔

بھارت بھی معرکہ حق میں ہونیوالی ہزیمت اور ناکامیوں کا بدلہ لینے کیلئے بلوچستان میں پراکسی دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ اس نازک صورتحال میں ضروری ہے کہ ان دشمن عناصر اور انکے سرپرستوں کے خلاف مزید متحرک‘ منظم اور مستعد پالیسی اختیار کی جائے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف پوری قوت سے سرگرم ہیں‘ اس جنگ میں پوری قوم کو ان کا پشت پناہ بننا ہو گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں