قرضوں کا بوجھ
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح‘ 80 ہزار 524 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 2636 ارب روپے زیادہ ہے۔ یہ اضافہ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ حکومت اب بھی اپنے مالیاتی نظام کو سنبھالنے کیلئے بڑے پیمانے پر قرضوں پر انحصار کر رہی ہے۔ رواں مالی سال میں سب سے زیادہ اضافہ اندرونی قرضوں میں ہوا‘ جو تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجوہات مالی خسارہ‘ بلند شرح سود‘ کمزور ٹیکس نظام‘ درآمدات پر انحصار اور بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات ہیں۔ ملکی معیشت کئی دہائیوں سے قرضوں کے سہارے چل رہی ہے۔جب کوئی معیشت مسلسل قرضوں پر انحصار کرے تو اس کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے‘ سرمایہ کاری سست پڑ جاتی ہے اور عوامی فلاح کے شعبے نظرانداز ہونے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرضوں کے انبار کے باوجود نہ تو مہنگائی کم ہو سکی ہے‘ نہ بیروزگاری اور نہ ہی عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ سکی ہے۔ حکومت کو اب قرض لے کر وقتی معاشی استحکام کا تاثر دینے کے بجائے برآمدات‘ ترسیلاتِ زر اور بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی‘ جو قومی آمدنی میں اضافے کے حقیقی ذرائع ہیں۔ پاکستان کو قرض پر چلنے والی معیشت سے نکل کر پیداوار‘ برآمدات اور سرمایہ کاری پر مبنی معیشت کی جانب بڑھنا ہوگا کیونکہ پائیدار خوشحالی کا راستہ یہی ہے۔