اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بڑھتی آبادی کا دبائو!

وزیراعظم شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ہاؤسنگ سیکٹر میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حکومت کا یہ عزم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ‘ سکڑتی زرعی زمین اور شہری پھیلائو بڑے ملکی چیلنجز بن چکے ہیں۔ 2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 24 کروڑ سے متجاوز ہے اور اس میں سالانہ 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا‘ جو نہ صرف جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے بلکہ ملکی وسائل پر ایک ایسا بوجھ ثابت ہو رہا ہے جسے برداشت کرنا اب معیشت کے بس میں نہیں رہا۔ ہاؤسنگ سیکٹر کا براہِ راست تعلق زمین کے استعمال سے ہے‘ لہٰذا اس سیکٹر میں اصلاحات کی اہمیت محض رہائش کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ملک کی غذائی ضروریات کا تحفظ بھی اسی کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا۔ جب تک رہائشی منصوبوں کو ایک ضابطے کے تحت نہیں لایا جاتا‘ تب تک آبادی کے سیلِ رواں کو منظم کرنا اور اسکے معاشی وسماجی اثرات سے نمٹنا ممکن نہ ہو گا۔ ہاؤسنگ سیکٹر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو اس وقت تقریباً سوا کروڑ رہائشی یونٹس کی قلت کا سامنا ہے۔

اس قلت کو پورا کرنے کیلئے پے بہ پے رہائشی سکیموں کا جو طریقہ اختیار کیا گیا‘ اس نے ملک کے ماحولیاتی اور زرعی توازن کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ ہماری زرعی زمینیں‘ جو کبھی ملک کی فوڈ باسکٹ کہلاتی تھیں‘ اب تیزی سے کنکریٹ کے جنگلات میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ زراعت پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا ستون ہے‘ یہ شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 24 فیصد کا حصہ دار ہے۔ اگر زرعی زمین رہائشی استعمال میں آ جائے گی تو نہ صرف خوراک کی پیداوار کم ہو گی بلکہ زرعی خام مال پر انحصار کرنے والی صنعتیں بھی مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔ اس کا ایک نتیجہ خوراک کے بحران اور زرعی درآمدات کے اربوں ڈالر کے بل کی صورت میں ہم پہلے ہی بھگت رہے۔ زرعی زمین کے نقصان کیساتھ بے ہنگم شہری پھیلاؤ ماحولیاتی اور انتظامی مسائل کو دوچند کرنے کا بھی سبب بن رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک کے تمام بڑے شہروں کو اربن فلڈنگ کے بدترین تجربات سے گزرنا پڑا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قدرتی ندی نالوں‘ نکاسیٔ آب کے راستوں اور گرین بیلٹس پر غیر قانونی تعمیرات ہیں۔ فضائی آلودگی اور سموگ سمیت روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام جیسے متعدد مسائل بے ہنگم آبادی کے مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی آبادی صرف رہائش کا مسئلہ ہی نہیں پیدا کر رہی بلکہ تعلیم‘ صحت اور روزگار کے مواقع کو بھی سکیڑ رہی ہے۔ پاکستان کی دو تہائی سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے‘ جو ملک کیلئے قیمتی معاشی اثاثہ ثابت ہو سکتے لیکن مناسب منصوبہ بندی کی عدم موجودگی میں یہ کثیر طبقہ معاشی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔

ہر سال دسیوں لاکھ نئے نوجوان روزگار مارکیٹ میں داخل ہوتے لیکن سست معاشی شرح نمو اور محدود صنعتی ترقی کے باعث انہیں نوکریاں نہیں ملتیں‘ نتیجتاً بیروزگاری اور جرائم کی شرح میں خطرناک شرح سے اضافہ ہو رہا۔ اس ہولناک صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ مناسب شہری منصوبہ بندی اور پائیدار زرعی حکمت عملی ہے۔ افقی کے بجائے شہروں کا عمودی پھیلائو اور بلند وبالا رہائشی عمارتوں کی تعمیر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ روایتی کے بجائے جدید بلاکس تعمیرات نہ صرف لاگت میں کمی لا سکتی بلکہ بدلتے موسمی حالات سے بھی بہتر انداز میں نمٹ سکتی ہیں۔ معاشی نقطۂ نظر سے ہاؤسنگ سیکٹر ملکی معیشت میں نئی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ کیونکہ اس کے ساتھ 40 سے زائد صنعتیں وابستہ ہیں‘ لہٰذا ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ملک کے معاشی اور ماحولیاتی تحفظ کا معاملہ ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی زمین‘ اپنی زراعت اور اپنے شہروں کو بچانے کیلئے جرأت مندانہ فیصلے نہ کیے تو غذائی قلت‘ ماحولیاتی تباہی اور معاشی ابتری جیسے مسائل ہمارے پیروں کی مستقل بیڑیاں بنے رہیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں