سرمایہ کاری میں کمی
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ملک میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم دو ارب چار کروڑ ڈالرتھا۔ سرمایہ کاری میں کمی کی بنیادی وجوہات میں غیر یقینی معاشی پالیسیاں‘ پیچیدہ ٹیکس نظام‘ انتظامی رکاوٹیں‘ سیاسی بے یقینی اور توانائی کی بلند قیمتیں شامل ہیں۔ ملک میں بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے کئی ملکوں سے زیادہ ہیں۔ بنگلہ دیش‘ ویتنام اور بھارت میں صنعتوں کو نسبتاً سستی توانائی دستیاب ہے جبکہ پاکستان میں صنعتکار مہنگی بجلی اور بلند شرحِ سود کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ یہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے توانائی کی قیمتوں میں کمی‘ ٹیکسوں میں سہولت‘ صنعتی شعبے کیلئے خصوصی مراعات اور سرمایہ کار دوست ماحول یقینی بنانا ہوگا۔ اس کیساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال اور حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ ملک میں صنعتی زونز کی صورت میں صنعتوں کیلئے بنیادی انفراسٹرکچر موجود ہے مگر مہنگی توانائی ‘ بلند شرح سود‘ امن و امان کے مسائل اور سرمایہ کاری کی راہ کی دیگر رکاوٹیں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سد راہ ہیں۔سرمایہ کاری اور صنعتکاری کیلئے پُر کشش ماحول بنانے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔